• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • 14 August speech in Urdu written For Students

14 August speech in Urdu written For Students

Posted in   Urdu Speeches   on  August 5, 2021 by  admin

یوم آزدی

جناب صدر !محترم سامعین!مجھے آج کے معززایوان میں جس موضوع کو الفاظ کا خراج پیش کرنا ہے،وہ ہے ۔

“یوم آزادی”

قوموں کی زندگی میں بعض دن اس قدر اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کہ ان کا تذکرہ دلوں کو ایمانی جوش و خروش سے بھر پور کر دیتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں چودہ اگست کا دن ایسی اہمیت کا حامل ہے۔چودہ اگست محض ایک دن نہیں ہے بلکہ تحریک پاکستان کے مجاہدین کے بے مثال جذبۂ قربانی کا پیغام بھی ہے۔اس دن کی تاریخی عظمت کے پیش نظر آج وطن عزیز کے ہر شہر اور قصبے میں خوشی و مسرت کا جشن منایا جا رہا ہے۔اس حسین موقعہ پرآپ سب کو جشن آزادی کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے میں غیر معمولی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

؎مبارک ہو تمہیں یہ جشن آزادی مبارک ہو
خوشی سے ہو گئی ہر دل کی آبادی مبارک ہو

حاضرین کرام!یوم آزادی کا لفظ زبان سے ادا ہوتے ہی تحریک پاکستان کے ولولہ انگیز دور کی یاد تازہ ہو جاتی ہے،خوشیوں کے گلاب مہکنے لگتے ہیں،یادوں کا قافلہ سفر کرنے لگتا ہے،پھر وہ زمانہ تصور میں ابھرنے لگتا ہےجب برصغیر کے مسلمان اپنے عزم و حوصلہ سے اپنے مستقبل کی عمارت تعمیر کر رہے تھے۔وہ دور مسلمانوں کے لئے بے پناہ کھٹن اور مشکل تھا۔ایک طرف انگریز تھا جو ہزاروں بر س حکومت کرنے کے منصوبے بنا رہا تھااور دوسری طرف ہندؤ تھا جو مسلمانوں سے اپنی سینکڑوں برس کی غلامی کا بدلہ چکانے کی سوچ رہا تھا۔ان کے علاوہ ایسے کم اندیش مسلمان بھی تھے جو نظریہ اسلام سے منہ موڑ کر ہندو سے تعاون کر رہے تھے۔غرضیکہ چاروں طرف سے دشمنی کی تاریکیاں چھائی ہوئی تھیں۔اس نازک دور میں قائداعظم محمد علی جناح آزادی کے سورج کی علامت بن کر ابھرے۔آزادی کا وہ سورج جس نے دیکھتے ہی دیکھتے غلامی کی تاریکیوں کا طلسم توڑ دیا اور آزادی کی روشنی سے ماحول جگمگانےلگا۔قائداعظم کی قیادت بلاشبہ قدرت کا بہت بڑا نعام تھی۔وہ قائد جس نے باطل کے سامنے جھکنا نہیں بلکہ جھکانا سیکھا تھا۔وہ قائد جس کے لوہے نے ہر لوہے کو کاٹا اور جس کے کردار صحیح معنوں میں مرد مومن کا کردار تھا۔اقبالؒ کا مرد مومن

؎ ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
کردار  میں  گفتار  میں  اللہ   کی  برہان

قائداعظم نے ملت اسلامیہ کی یوں نا خدائی کی کہ قوم نے صدیوں کا فاصلہ برسوں میں طہ کرلیا اور پھر چودہ اگست 1947ء کو چشم فلک نے یہ ایمان افروز منظر دیکھا کہ انگریزوں کا اقتدار حرف غلط کی طرح مٹ چکا تھا اور ہندو سامراج مسلم دشمنی میں ناکام ہو کر اپنے زخم چاٹ رہا تھا۔ہمارا محبوب قائد اپنے تمام حریفوں کو شکست فاش دے چکا تھا اور دنیا پاکستان کے وجود کو سلام عقیدت پیش کر رہی تھی۔
معرز سامعین! تحریک پاکستان کی آصل قوت دو قومی نظریہ اسلام تھی جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا تھا اور فضائیں “پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ” کے جوش نعروں سے گونج رہی تھیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہی نظریۂ اسلام پاکستان کی حقیقی بنیاد ہے۔اسلئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے سر بلند اور خوشحال ہو تو ہمیں اسکی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہو گا۔اسلام اس ملک کا مقدر بھی ہے اور اسکے تابندہ مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔

؎ اک ابرِ نو بہار فضاؤں پہ چھا گیا
اسلام اس چمن کی رگوں میں سما گیا

حاضرین کرام! چاہیے تو یہ تھا کہ پاکستان کو شوکت اسلام کا گہوارا بنایا جاتا مگر قائداعظم کی وفات کے بعد ہر حکمران نے اسلام کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا مگر اسلام کے عملی نفاذ کی جانب ایک قدم بھی آگے نہ بڑھایا ۔موجودہ حکومت اس لحاظ سے مبارک باد کی مستحق ہے کہ اس نے نظام اسلام کےنفاذ کے لئے عملی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے۔آج چاروں طرف اسلامی نظام کی برکات کے چرچے ہو رہے ہیں اور ہر محبّ وطن کی یہ آرزو ہے کہ پاکستان اسلامی قوت و شوکت کا قلعہ بن جائے۔ایسا مضبوط قلعہ کے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کی امیدیوں کا مرکز اور جسے ایک نظر دیکھ کر مسلمانوں کی شوکت رفتہ کے واپس لوٹ آنے کا یقین آجائے۔
پاکستان ہمارے لئےخدا کے احسان عظیم سے کم نہیں۔یہ ہمارے لئے قائد کی نشانی ہے۔یہ وہی مقدس سر زمین ہے جسے حاصل کرنے کے لئے لاکھوں شہداء نے اپنے خون اس پر نچھاور کیا ہے۔ان شہیدوں کا لہو ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر ہمارے احسان کا بدلہ چکانا چاہتے ہو تو پھر پاکستان کو مستحکم بنانا ہو گا جس کے لئے ہم نے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کیا تھا۔
محترم حاضرین!آج دو قومی پرچم کی سربلندی کو گواہ بنا کر ہمیں یہ سوچنا ہو گاکہ ہمارا ہراعزازپاکستان کے طفیل ہے۔ہم طالب علم ہیں یا استاد،مزدور یا صعنت کار،افسر ہیں یا ماتحت،شہری ہیں یا دیہاتی ہماری شان اورآن فقط پاکستان کے دم قدم سے قائم ہے۔اگر ہمارا ملک سلامت ہے تو پھر سب کچھ محفوظ ہے،اور اگر ہمارا ملک خطرات کی زد میں ہے تو پھر ہم بھی محفوظ نہیں ہیں۔ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ آزادی کا عطیہ ہے۔اس لئے ہم نے ہر قیمت پر اپنے مقدس وطن کی آزادی کو برقرار رکھنا ہے اور اسے اقوام عالم میں انتہائی بلند و بالا مقام بخش کر اس کے وجود کو ترقی و خوشحالی کی ضمانت بنانا ہے۔
آج کے باوقار اورایمان افروز اجتماع میں میں آپ کو یوم آزادی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔مجھے امیدہے کہ ہم سب قائداعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات کو دلوں میں جگہ دیں گے اور نظریہ پاکستان کی حرمت پر سب کچھ قربان کر دینے کا عزم کر کے ملک و ملت کی خدمت کے لئے کو شاں رہیں گے۔ایک محبّ وطن شہری اور اس شہر کے خادم ہونے کی حیثیت سے میں آپ سے عزم کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ

؎ خون دل دے کے نکھاریں گے رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے

Read More Urdu Speeches : Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain Urdu Speech 
Kashmir Banay Ga Pakistan Speech in Urdu Written

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates