• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Hajj By Allama Ghulam Ahmed Pervez

Hajj By Allama Ghulam Ahmed Pervez

Posted in   Ghulam Ahmed Pervez   on  July 5, 2021 by  admin

حج

علامہ غلام احمد پرویز

مذہب کے متعلق عام طور پر سمجھا یہ جاتا ہے کہ وہ ایک فرد کا ذاتی اصلاح کا ذریعہ ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ افراد کی ذاتی اصلاح نہایت ضروری ہے،لیکن یہ اصلاح اصل مقصد نہیں۔عمدہ گھڑی کے ہر پُرزہ کے لئےمضبوط اور درست ہونا ضروری ہے۔لیکن اگر یہ پُرزے الگ تھلگ پڑے ہوں تو ان کی پائیداری اور مضبوطی کسی کام کی نہیں۔یہی پُرزے جب ایک نظام کے ماتحت،ایک خاص ترتیب سے،ایک جگہ جمع کر دئیے جائیں تو ان میں سے ہر پُرزہ کی حرکت،دوسرے پُرزوں پر اثر انداز ہو گی اور اس طرح ان کی اس مجموعی حرکت کا جیتا جاگتا نیتجہ،محسوس شکل میں گھڑی کے ڈائل پر نمودار ہو جائے گا۔

اسلام افراد کی اصلاح سے ایک ایسی جماعت پیدا کرنا چاہتا ہے،جو نظامِ انسانیت کو عدل پر چلا سکے۔اس مقصد کے حصول کے لئے اس نے ایک ایسا عملی پروگرام مرتب کر دیا ہے جس میں ہر قدم اُسی منزل کی طرف اٹھتا ہے۔نماز کے لئے پانچ وقت کا اجتماع۔

تقویٰ۔ضبطِ نفس۔غیر اللہ کی محکومی سے انکار۔اللہ کی حاکمیت کا اقرار۔مرکزیت،اجتماعیت،اطاعتِ امام کا عملی مظاہرہ ہے۔جمعہ کے اجتماع میں یہ دائرہ وسیع تر ہو جاتا ہے۔عید کی تقریب پر اس کی حدود اور زیادہ پھیل جاتی ہے اور بالآخر حج کے میدان میں اس کی وسعتیں ساری دنیا کو اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔رمضان المبارک کے پورے مہینے کی مشق و ریاضت کے بعد جب ذہنوں میں جِلا،دلوں میں تازگیٔ ایمان،نگاہوں میں مومنانہ فراست اور خون میں مجاہدانہ حرارت پیدا ہو گئی تو عید الفطر کے اجتماع میں ہر مقام سے ملتِ اسلامیہ کی نمائندگی کے لئے بہترین افراد کا انتخاب ہوا۔مسلم نمائندوں کے یہ قافلے دنیا کے دُور دراز گوشوں سے جنگل،بیابان،کوہ اور دریا کے مرحلوں کو طے کرتے ہوئے مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ اپنی بین الملّی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے چاروں طرف سے ایک مرکز کی طرف سمٹے چلے آرہے ہیں۔ دنیا میں کوئی جماعت بِلا مرکز قائم نہیں رہ سکتی۔مسلمانوں کے فکر و نظر کا مرکز قرآن،اطاعت کا مرکز امیر اور اجتماعیت کا مرکز بیت الحرام ہے۔جو ایک خدا کے ماننے والوں کے مورثِ اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقدس ہاتھوں سے وجود میں آیا اور دنیا کے بتکدہ میں خدا کا پہلا گھر کہلایا۔ اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ(۹۶) بلا شبہ پہلا گھر جو تمام انسانوں کے لئے(بطور مرکز)بنایا گیا ہے وہ یہی ہے جو مکہ میں ہے،برکت والا اور تمام دنیا کے لئے ہدایت کا سر چشمہ۔ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًاؕ جو کوئی اس حدود میں داخل ہوا وہ امن اور حفاظت میں آگیا۔

اسلام دنیا میں جس نظام کو قائم کرنے کے لئے آیا ہے اس کی بناء اس اصول پر ہے کہ تمام انسان ایک برادری کے فرد ہیں۔وہ ان تمام غیر فطری حد بندیوں کع توڑنے کے لئے آیا ہے جس سے انسانوں کی یہ برادری مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔نسل کا امتیاز،رنگ اور زبان کا امتیاز،جغرافیائی حدود کا امتیاز اس کے نزدیک سب غیر فطری حد بندیاں ہیں۔اس لئے خدا کے اس گھر میں جب انسان جمع ہوں گے تو باطل کے ان امتیازات میں کوئی امتیاز باقی نہیں رہے گا۔چینی،جاپانی،ہندی،افغانی،ایانی،تورانی،حبشی،افرنگی سب ایک ملت کی شکل میں اس عظیم الشان حقیقت کا اعلان کرنے کے لئے جمع ہوں گے کہ

تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

یہی نہیں بلکہ مختلف قسم کے لباسوں سے جو اعلیٰ اور ادنیٰ کے امتیاز کی جھلک نمودار ہو سکتی ہے،اسلام نے اسے بھی روا نہیں رکھا اور حکم دیدیا کہ ارضِ حرم میں داخل ہونے سے پہلے سب ایک بِن سلی چادر میں لپٹے ہوئے حاضر ہوں۔

تاکس نگوید بعد من دیگرم تو دیگری

یہ ہے وہ وردی جو اس بین الّمی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے لئے تجویز کی گئی ہے۔یوں باطل کے ہر نظام کو مٹاتے۔وحدت کے رنگ میں رنگے یہ قافلے چاروں طرف سے،اپنے مرکز کی طرف بڑھتے چلے آرہے ہیں۔سب ایک آقا کے غلام،ایک حاکم کے محکوم،ایک قانون کے تابع،ایک نظام کے پابند،فقیرانہ لباس،ننگے سر،گدایانہ وضع،قلندرانہ ادائیں ،سکندرانہ جلال،دنیا بھر کے آستانوں سے بے نیاز،مستانہ وار گذرتے ہوئے ایک کی چوکھٹ پر سر جھکانے کے لئے بیتاب،دل وفورِ شوق سے بے قرار،آنکھیں مئے توحید سے نشہ بار لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ کہتے ہوئے یوں رواں دواں،جانب مرکز کھنچے چلے آرہے ہیں جیسے شہد کی مکھیاں،رنگ و بو کی فضاؤں کے جوہر اپنے سینوں میں بھر کر،سینکڑوں میل کی مسافت طے کر کے شام کے وقت اپنے چھتے کی طرف پروانہ وار اُڑتی چلی آرہی ہوں کہ اپنی محنتوں کا سرمایہ،تگ و دو کا ماحصل میں لا کر اکٹھا کر دیا جائے۔

زمانہ ابراہیمی میں رواج تھا کہ عہد پیمان کی پختگی کے لئے ایک پتھر پر ہاتھ مارتے تھے۔جب ان رہروانِ منزلِ شوق کے قافلے حریمِ کعبہ پہنچے تو اس عہد و پیمان کی تجدید کے لئے انہوں نے اپنے اللہ سے باندھ رکھا ہے،حجرِ اسود کو چھوا۔بعض نے ہجوم کی وجہ سے دُور ہی سے اشارہ کر دیا۔کسی نے پیمان کے تقدس کی رعایت سے ہاتھ کو چوم لیا اور یوں اس عہد کی تجدید ہوئی کہ
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ لَا شَرِیْكَ لَهٗۚ-وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ 6/162-

میری نماز،میرا حج ،میرا جینا مرنا،سب اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام کائنات کا پروردگار ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں خدا کے فرمانبرداروں میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔اس عہد پیمان کی تجدید سے وجدو مسرت اور سرمستی و شیفتگی کی وہ کیفیت طاری ہوئی کہ والہانہ انداز میں خدا کے اس گھر کے گرد،پروانہ وار گھوم رہے ہیں۔کوئی کعبے کی چوکھٹ پر سر رکھے محوِ نیاز ہے۔کوئی اس کا غلاف تھامے عالم وارفتگی میں جھولی پھیلائے کھڑا ہے۔دل میں مقدس آرزؤں کا ہجوم،آنکھوں میں چمکتے ہوئے آنسو،لب پر دعائیں،محویت کا عالم،آسمان سے نُور کی بارش۔رحمتوں کا نزول،غرضیکہ ایک نئی دنیا اور ایک عجیب سماں ہے۔

حجاز کے متوالوں کے یہ قافلے 8 تاریخ کو عرفات کے میدان کی طرف روانہ ہو گئے۔پاک اور صاف ،سر سے پاؤں تک لِلہیت میں ڈوبے ہوئے۔قدم وادیٔ مکہ میں ،نگاہیں عرشِ معلیٰ پر،کوئی تیز گام،کوئی آہستہ خرام،کشاں کشاں،9 تاریخ کو اس میدان میں جمع ہوئے۔کیسا حسین نظارہ ہے۔سب ایک آقا کے غلام،ایک ملت کے فرد ایک ہی وضع،ایک ہی انداز،بھائی سے بھائی ملا۔ایک کا دوسرے سے تعارف ہوا کہ اس مقام کا نام ہی عرفات کا میدان ہے۔اجتماع کیا ہے؟ مساوات اور محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے،جس میں ہر قطرہ اپنے آپ کو خود سمندر محسوس کرتا ہے۔یہ سب خدا کے حضور جمع ہوئے۔ان کا منتخب امام منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آیا۔اس نے ملت کی اجتماعی حالت پر تبصرہ کیا۔اور سال بھر کے لئے ایک مرتّب شدہ پروگرام کا اعلان کر دیا،جس کی تکمیل کے لئے دعائیں مانگی گئیں،التجائیں کی گئیں،اور یوں یہ عظیم الشّان اجتماع،زندہ آرزؤں کی ایک نئی دنیا اپنے جلو میں لئے دوسری صبح منٰی کے میدان میں آگیا۔یہی وہ میدان ہے جہاں ملّتِ حنیفہ کے پیشوائے اعظم،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے پیشانی کے بل لٹا دیا تھا۔اور یوں اپنے ایمانِ محکم کا عملی ثبوت دیا تھا کہ تیرا حکم ہو تو عزیز ترین متاع بھی بلا تامل نثار کر دی جا سکتی ہے۔اس صحرائی قربان گاہ میں پہنچ کر ملّتِ اسلامیہ کے ان نمائندوں نے اس اقرار کو دہرایا کہ تیرا نام بلند کرنے کے لئے جو پروگرام مرتب ہوا ہے اس کی تکمیل میں جس قربانی کی ضرورت ہو گی بلا دریغ کر دی جائے گی۔یہاں تک پہنچ کر مختلف ملکوں کے نمائندوں نے اپنے خیمے لگائے۔یہ سب اللہ کے مہمان ہیں اس لئے خود ہی مہمان اور خود ہی میزبان ہیں۔آج صبح ہندی مسلمانوں کے ہاں سب کے کھانے کاانتظام ہے۔شام کو ایرانیوں کا اہتمام ہے۔ان دعوتوں کے لئے قربانی کی جا رہی ہیں۔سامان تو کھانے پینے ہی کا ہے،لیکن چونکہ وہ مقصد عظیم کے لئے یہ اجتماع ہوا ہے خالصتہً اللہ کے لئے ہےاس لئے یہ دعوتیں بھی دنیا کی دعوتوں سے نرالی ہیں۔
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ-كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْؕ-وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ (22/37)
اللہ تک ان قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا،بلکہ تمہارے دل کا تقویٰ ،پاکیزگیٔ مقصد پہنچتی ہے۔اس لئے ان جانوروں کو اس طرح تمہارے لئے مسخر کر دیا گیا کہ تم اللہ کی راہنمائی پر اس کے نام کو بلند کرو،اور نیک کرداروں کے لئے بشارت ہے۔
دعوتیں اور ضیافتیں ہیں۔ایک ملک کے مسلمان دوسرے ملک والوں کو اپنے مقامی حالات سے آگاہ کر رہے ہیں۔ دماغی اور قلبی تعارف ہو رہا ہے۔اِدھر اُدھر مختلف ملکوں کی مصنوعات کی نمائش لگ رہی ہے،خرید و فروخت ہو رہی ہے۔
لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْؕ (2/198)
اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم (حج میں) اپنے رب کا فضل(یعنی معیشت)کماؤ۔اس طرح یہ اجتماع ملت اسلامیہ کے لئے دینی اور دنیاوی،سیاسی ،اقتصادی،معاشی،معاشرتی فوائد کا ذریعہ بن رہا ہے کہ حج کا مقصد یہی ہے لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ (22/28) تا کہ لوگ اپنے فوائد کے لئے حاضر ہوں۔
تین دن یہ اجتماع رہا جس میں عالمِ اسلامی کے ہر گوشے اور ملّتِ اسلامیہ کے ہر شعبے کے متعلق باہمی تبادلہ خیالات ہوا۔اِدھر یہ ہو رہا ہے،اُدھر تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ملّت کے افراد،اپنے اپنے ہاں وادیٔ مکہ کے اجتماع سے ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے عیدگاہوں میں جمع ہو رہے ہیں۔ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے،نیز اس پروگرام کو سننے کے لئےجس کا اعلان ایک دن پہلے میدان عرفات میں ہواہے۔اس پروگرام کی اطلاعیں ریڈیو اور تار برقی سے تمام عالمِ اسلامی تک پہنچ چکی ہیں۔مقامی مسلمان عیدگاہوں میں پہنچے،اپنے اپنے خطیبوں اس پروگرام کو سُن لیا اور سمجھ لیا جس پر اب سال بھر عمل کیا جائے گا۔وہ تھا حج،یہ ہے عید۔وہ فریضۂ مقدس جس میں نوع انسانی کے قیام و بقا کا راز ہے۔تمام انسانوں کا اس لئے کہ مسلمان دنیا میں اپنے ہی لئے ہی نہیں جیتا بلکہ اس کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ تمام دنیا کو اس نظام پر چلائے جس سے انسانیت بڑھے،پھولے،پھلے اور عروج و ارتقاء کی منزلیں طے کر کے اس منزل سے اگلی منزل میں جا پہنچے۔حج اس نظام کی سب سے بڑی اور کعبہ اس نظام کا مرکز ہے۔
جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ 5/97
اللہ نے کعبہ کو جو حُرمت کا گھر ہے تمام انسانوں کے لئے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔انسانوں نے مختلف خطوط پر مختلف قسم کی جمعیتیں بنا بنا اور بگاڑ بگاڑ کر مختلف تجربے کےبعد اس نیتجہ پر پہنچے ہیں کہ۔۔۔۔۔

تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی

یہ سب اس لئے کہ جس اصولوں پر یہ جمعیتیں بنائی گئیں وہ سب غیر فطری تھے۔فطرت کے مطابق تو ایک ہی اصول ہے اور وہ یہ کہ انسانوں کی تقسیم ملکوں اور قوموں کی رُو سے نہ کی جائے بلکہ انسانوں کو ایک عالمگیر برادری تصور کر کے انہیں ایک مرکز کے ماتحت،خدا کے قانون کے تابع رکھا جائے۔یہی وہ عظیم الشان اصول ہے جس کی رُو سے مکہ کو وَّ ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ تمام دنیا کے لئے ہدایت کا سرچشمہ اور کعبہ کو قِیٰمًا لِّلنَّاسِ تمام نوعِ انسانی کے قیام کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔اس جمعیتِ آدم کا فطری نیتجہ ہے،دنیا کا امن و سکون وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًاؕ ۔جو اس میں داخل ہوا امن و حفاظت میں آگیا۔حج اور عید اسی منزل کے نشان راہ ہیں۔
(علامہ غلام احمد پرویزؒ کی ایک نشری تقریر)

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates