• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Iqbal Aur fikr-e- Islami اقبال اور فکر اسلامی

Iqbal Aur fikr-e- Islami اقبال اور فکر اسلامی

Posted in   Ghulam Ahmed Pervez   on  July 3, 2021 by  admin

اقبالؒ اور فکرِ اسلامی

علامہ غلام احمد پرویز سے ایک یادگار انٹرویو

علامہ غلام احمد پرویزؒ
س: علامہ اقبالؒ سے آپ کی پہلی اور آخری ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟ صحبتیں جو گذر گئیں،ان کی یاد تازہ کیجئے۔
ج: پہلی ملاقات کے متعلق تو متعین طور پر نہیں کہہ سکتا کہ کب اور کہاں ہوئی؟اس لئے کہ وہ تو پچاس سال سے بھی زائد کا عرصہ ہے۔آخری ملاقات البتہ ان سے جنوری 1938ء میں ہوئی، جب یومِ اقبالؒ کی تقریب کے سلسلے میں دہلی سے ہمارا قافلہ لاہور آیا اور ان سے ان کی قیام گاہ پر ملاقات ہوئی۔اس زمانے میں یوں کہیے کہ وہ گویا بسترِ مرگ پر ہی تھے۔بینائی بہت کمزور تھی،بولنے میں ان کو بڑی تکلیف ہو رہی تھی،لیکن اس کے باوجود انہوں نے خاصا وقت ہمیں دیا۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ کچھ میری رعایت برتی، اس لئے کہ ہمارے صاحبِ کارواں علامہ اسلم جیراجپوری علیہ الرحمہ تھے،ان کے اکرام و احسان کی بدولت ہمیں بھی یہ سعادت نصیب ہو گئی۔خاصا وقت اس میں صرف ہوا اور یہ آخری ملاقات ہے جو حضرت علامہ علیہ الرحمہ سے ہوئی۔باقی رہی تاثرات،تو محترم سید نذیر نیازی صاحب نے اپنی کتاب”اقبالؒ کے حضور میں“ اس دن کی صحبت کا تفصیلی نقشہ پیش کیا گیا ہے۔اس سے معلوم ہو جائے گا کہ ہم نے ان سے کس قسم کے سوال۔۔۔۔؟سوال تو میں نہیں کہہ سکتا،میری حیثیت تو ان کے سامنے ایک ادنیٰ سے متعلّم کی رہی، ہم تو استفادہ ہی کرتے تھے ٗ جرأت کر لیتے تھے کچھ پوچھنے کی ٗ اگرچہ وہ بہت جرأت دلایا کرتے تھے ٗ حوصلہ افزائی کیاکرتے تھے ٗ ان کا تو انداز ہی ایسا تھا وہ کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دیتے تھے کہ وہ کوئی بڑی شخصیت ہیں اور ان کے سامنے کچھ چھوٹے لوگ بیٹھے ہیں ٗ وہ تو سب کو برابر کی حیثیت دیتے تھے اور بعض اوقات تو انکسار اور بھی بڑھ جاتاتھا ٗ جو ہم لوگوں کے لئے حوصلہ افزا ثابت ہوتا تھا۔

س: پرویز صاحب! اقبالؒ کے حضور میں اس وقت کوئی ایسا موضوع بھی زیرِ بحث آیا ہو،جس کا ذکر نذیر نیازی صاحب نے اپنی کتاب میں نہ کیا ہو؟
ج: میں یقین سے نہیں کہا سکتا کہ یہ سوال اس میں آگیا ہے یا نہیں ٗ لیکن دو باتیں بڑی اہم ہیں ٗ حضرت علامہ نے جاوید نامہ میں مختلف ارواح یا مختلف ہستیوں سے عالمِ بالا میں ملاقات کی جو روئیداد بیان کی ہے،میرے نزدیک حضرت سید احمد شہید علیہ الرحمہ اور ان کا معرکۂ بالاکوٹ،ہمارے اس آخری دور کی اسلامی تاریخ میں بڑا پُرعظمت ہے،سو میں نے اس واقعہ پر حضرت علامہ سے عرض کیا کہ جی چاہتا ہے کہ آپ سر سیّد اور سیّد احمد شہید دونوں کی ارواح کو آمنے سامنے لا کر ذرا اس تقابل بتاتے۔اس پر حضرت علامہ نے فرمایا” یہ اور اس قسم کے اور کئی سوال تھے جو بعد میں میرے ذہن میں آئے اور ایسا ہو جاتا ہے،اب جب بھی فرصت ملی ،میں ان چیزوں کو ضرور سامنے لاؤں گا“۔
اور ایک سوال،میں نے عرض کیا کہ یہ جو قیامت کا واقعہ یا حقیقت ہے وہ ہمارے ذہن میں تو ہے کہ ہم انسان ایک دن اللہ ربّ العزت کے حضور پیش ہوں گے ٗ لیکن قرآن میں تو ہے کہ تیرا خدا اور اس کے ملائکہ یہاں آئیں گے ٗ تو کیا یہ سارا ماجرا یہاں ہی ہو گا؟
انہوں نے کہا کہ حیات بعد ممات اور وہاں کے جتنے بھی نظریات ہیں ، ان سب کے متعلق میرے ذہن میں ہے اور میں قرآنِ کریم کی تفسیر کی (Introduction)میں اس سوال کو موضوعِ سخن بناؤں گا۔

س: حضرت علامہ کی صحبت میں جو ان کے شیدائی بیٹھتے تھے، وہ کس قسم کے سوال کرتے تھے؟
ج: (مسکراتے ہوئے) یہ شیدائیوں کی بھی مختلف نوعیتیں اور قسمیں ہیں،آپ کا استفسار ہے کہ ان کے ہاں کس قسم کے لوگ بیٹھتے تھے ؟ ان کی کیفیت تو بڑی دلچسپ ہے۔حضرت علامہ چونکہ ڈاکٹر مشہور تھے، تو ایک دفعہ ایک شخص نے آکر سوال کیا کہ میرے پیٹ میں ددر بڑا پرانا ہے،کسی حکیم یا ڈاکڑ سے فائدہ نہیں ہوا،آپ مجھے کوئی اچھا سا نسخہ لکھ دیجئے۔
(قہقہہ لگاتے ہوئے) تو صاحب حضرت علامہ تو یہ بھی لکھ دیا کرتے تھے، اسی طرح مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایک مرتبہ موچی دروازے کا ایک جفت سازان ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا! ہمارا کاروبار پہلے خوب چلتا تھا،مگر جب سے انگریزی جوتے مارکیٹ میں آگئے ہیں،ہمارا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔کسی نے ہمیں بتایا ہے کہ علامہ صاحب بڑے اچھے مشورے دیتے تھے،سو میں آپ سے مشورہ لینے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔
غرض کہ یہاں سے لے کر یورپ کے بڑے بڑے بلند پایہ مفکروں تک حضرت علامہ کی مجلس میں آیا کرتے تھے۔ہر کوئی اپنی ذہنی سطح،افتاد طبیعت اور مزاج کے مطابق سوال کرتا تھا اور اس کے مطابق ہی جواب ملتا تھا۔ادیب،شعرا ٔ ،فلاسفر اور خود مولوی صاحبان(مسکراتے ہوئے) پیر پرست لوگ بھی۔کئی ایسے بھی تھے جو آکر کہا کرتے تھے کہ حضرت کسی طرح سے آپ ڈاڑھی رکھ لیں،تو پھر دیکھیں کہ دنیا کیسے آپ کی گرویدہ ہو جاتی ہے۔شیدائیوں اور سوالات کی تو یہ کیفیت ان کی محفل میں ہوتی تھی۔

س: بعض لوگ حضرت علامہ کو ڈاڑھی رکھنے کا مشورہ دیتے تھے،لیکن حضرت علامہ نے ایسا نہیں کیا!
ج: علامہ اقبالؒ ان سے کہا کرتے تھے کہ بھئی اس وقت تک عام تأثر یہ ہے کہ دین کے متعلق وہ ہی کچھ کہہ سکتا ہےیا جان سکتا ہے،جس کی ایک خاص شبیہ ہو،خاص وضع قطع ہو اور یہ ہمارا نوجوان طبقہ،نئی نسل یا نوجوان طالب علم ہیں،ان کے دلوں میں یہ (Complex)سا پیدا ہو گیا ہے،میں اس (Complex) کو دُور کرنا چاہتا ہوں،کہ نہیں،تم دین کو سمجھ سکتے ہو،تمہیں بھی دین کے متعلق معلومات حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے لئے میں اپنے آپ کو بطور ایک مثال کے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ دیکھئے میری وضع قطع ایسی نہیں ہے لیکن اس کے باوجود تم جانتے ہوں کہ مجھے دین کے متعلق بہت کچھ معلوم ہے،یہ دنیا کہتی ہے اور علماء کرام بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں،پس اس کمپلیکس کو نکال دو کہ جب تک تمہاری ایک خاص وضع وقطع نہ ہو گی،تم دین کا علم حاصل نہیں کر سکو گے یا دین کے متعلق کچھ نہیں جان سکو گے۔

س: اقبالؒ کے افکار کی وسعت،ان کی بلندی اور ان کی گہرائی بے پایاں ہے۔آپ نے علامہ کے افکار کے حوالے سے ان کی شحصیت کے کس پہلو کو زیادہ نمایاں طور پر محسوس کیا؟
ج: میں قرآن کا طالب علم ہوں اور قرآن ہی کی کشش سے میں حضرت علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔انہوں نے قرآنِ کریم کے متعلق جو کچھ کہا،اس کا میرے دل پر بڑااثر تھا اور اثر یہ کہ قرآنِ کریم کا سمجھنا میں نے حضرت علامہ سے سیکھا تھا۔ان کی شخصیت کا یہی پہلو تھا ،جو مجھے ان کے قریب لے آیا۔انہوں نے اپنی پہلی تصنیف ”اسرارخودی یا”رموزِبیخودی“ کے آخر میں کہا ہے کہ جو کچھ میں نے سمجھا ہے،اپنی بصیرت کے مطابق قرآن ہی سے سمجھا ہے۔قرآن کریم کی عظمت اور احترام میرے دل میں بھی چونکہ بدرجہ نہایت تھا،اس لئے میں جو ان کے قریب ہوا،تو اس کی یہی وجہ تھی،باقی چیزیں وہ قرآن کے تابع رکھتے تھے،مثلاً دنیا بھر کے علوم پر ان کی نگاہ تھی،لیکن کسی علم یا مذہب کے متعلق جو بحث بھی وہ چھیڑتے،آخر میں وہ قرآن کی طرف لے جاتے اور فرمایا کرتے تھے کہ قرآن اس کے معتلق یوں کہتا ہے۔میرے نزدیک ان کی شخصیت کو سمٹایا جائے،تو ان کے افکار کی وسعت،ان کی بلندی اور ان کی گہرائی، سب کچھ اس میں سمٹ کر آجاتا ہے۔

س: علامہ ایک مستقل نظامِ فکر رکھنے والے معاشرہ کی تشکیل چاہتے تھے،ان کے نزدیک اس مثالی معاشرے کے خدوخال کیا تھے؟
ج: ہاں، یہ وہ سوال ہے جس میں حضرت علامہ کا سارا پیغام سمٹ کر آجاتا ہے۔درحقیقت قرآن سے پہلے پوری دنیا میں مذہب کے متعلق تأثر،خیال اور عقیدہ یہ تھا کہ یہ خدا اور بندے کے درمیان ایک نجی تعلق(Private Affair) نام ہے جو پوجا پاٹ،پرستش،بندگی اور عبادت کے ذریعے سے قائم ہوتا ہےیا مراقبوں اور ریاضتوں کے توسل سے،دنیاوی معاملات سے ان کا کوئی تعلق نہیں،مگر قرآن حکیم نے آکراس کی تردید کی اور بتایا کہ نہیں، ایسا ہر گز نہیں،ضمناً مذہب کا لفظ قرآن میں ہے ہی نہیں،اس میں دین کا لفظ ہے،ہماری بدبختی ہے کہ قرآن حکیم یا عربی زبان کے یہ جوالفاظ ہیں،ان کے مترادفات دنیا کی کسی بھی زبان میں نہیں ہیں،جب ہم ان کا ترجمہ کرتے ہیں،تو ان زبانوں میں جو (Concepts)یاتصّورات ہوتے ہیں ،وہیں سے ہم الفاظ لیتے ہیں ،اس لئے ہم نے دین کا مترادف مذہب(Religion) لیا،جو صحیح نہیں ہے۔قرآن یا اسلام درحیقیت مذہب کے خلاف ایک چیلج ہے۔حضرت علامہ بھی جو کتاب لکھناچاہتے تھے جس کے لئے وہ(Notes) چھوڑ گئے،انہوں نے ایک فقرے میں یہ کہا ہے کہ:
”اسلام(Religion) کے خلاف ایک(Protest) ہے“۔
صد حیف کہ اقبال وہ کتاب لکھ نہ سکے۔میں یہ کہنے کی جسارت تو نہیں کر سکتا کہ میں نے ان کے موضوع کو اپنایا،بہر کیف یہ ان ہی کا فیضان ہے کہ میں نے Islam A Challenge To Religion لکھی۔اس میں شک نہیں کہ اسلام مذہب کے خلاف ایک چیلج تھا،مذہب کا جو تصور(Concept)رہا ہے کہ دنیوی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں،قرآن نے اس کو غلط ثابت کیا ہے۔بنا بریں وحی کا مقصد یہ ہوتا ہےکہ وہ دنیوی امور کو ابدی اقدار کے تابع رکھ کر حل کرے۔حضرت علامہ نے اسے ایک مصرعہ میں یوں سمو دیا کہ؏

از کلیدِ دیں درِ دنیا کشاد

دین کی چابی سے دنیا کے ہر دروازے کو کھولا جا سکتا ہے اور یہی دینِ اسلام کا کام،قرآن نے ہمیں یہی سکھایاہے۔اب جہاں تک دنیوی امور کا تعلق ہے،ان میں مملکت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔دنیوی امور دراصل مملکت کے ذریعے ہی طے پاتے ہیں،گویا اسلام وہ ہےجس میں مملکت اقدارخداوندی کے تابع رہ کردنیوی معاملات کا حل پیش کرتی ہے۔اس میں مذہب اور سیاست الگ الگ نہیں رہتے،بلکہ ایک ہو جاتے ہیں۔حضرت علامہ اس بارے میں اتنے محتاط تھےکہ انہوں نے لکھا ہے:
”میں تو یہ کہوں گااور تمہیں بھی یہ کہنا چاہئے کہ : یہ ایک حقیقت کے دو رُخ ہیں۔“
مقصود حضرت علامہ کے کہنے کا یہ تھا کہ دو رُخ ہونے میں بھی کچھ ثنویت(Dualism) کا تأثر آجاتا ہے،اس لئے کہ ؏

گُہر میں آبِ گُہر کے سوا کچھ اور نہیں

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔میں عرض کروں گا کہ جب اسلام میں ملوکیت در آئی،تو اس نے آکر پھر یہ ثنویت پیدا کر دی۔مملکت،سلطنت اور دنیا کے معاملات حکومت نے اپنے پاس رکھ کر ایک الگ دائرہ قائم کر لیا مذہب کے معاملات انھوں نے علماء کو دے دئے،اس طرح سے دو علٰیحدہ علٰیحدہ مملکتیں قائم ہو گئیں۔جنہوں نے باہم معاہدہ کر لیا کہ وہ ایک دوسرے کے معاملات میں داخل اندازی نہیں کریں گے۔اس طریق کار سے وہ تصور اُبھر آیا،جو اسلام سے پہلے رائج تھا،جس کو مٹانے کئے لئے اسلام آیا تھا۔ہمارے ہاں ہزار برس سے یہی تصور چلا آرہا تھا،ثنویت چونکہ حکومت اور مذہبی پیشوائیت دونوں کے لئے مفید تھی،اس میں دونوں کو الگ الگ اقتدار کے دوائر حاصل تھے،اس لئے حکومت نے تو اس کو مستحکم سے مستحکم تر کرنا ہی تھا،مذہب پرست طبقے نے بھی ہمارے ہاں ان گرہوں کو اور زیادہ مضبوط کیا،چنانچہ کیفیت یہ ہو گئی کہ اذہان نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ مملکت اور مذہب یکجا ہو سکتے ہیں،حضرت علامہ کا یہ زندہ جاوید کارنامہ تھا کہ انہوں نے فرمایا۔؏

جُدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

حضرت علامہ واشگاف انداز میں فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کی رُو سے اسلام ایک نظامِ زندگی ہے،ایک ضابطۂ حیات ہے،جو انسانی زندگی کے تمام گوشوں کو مستیز کرتا ہے۔عبادت،مناصب اور امورِ مملکت کو اس سےالگ نہیں کیا جا سکتا اور یہ ایسی صورت میں زندہ ہو سکتا ہے کہ اپنی ایک آزاد مملکت ہو۔

س: حضرت علامہ کے ذہن میں کس قسم کے مستقل نظام کا نقشہ تھا؟
ج: وہ ابدی حقائق،اصول یا اقدار، جو خدا کی طرف سے ودیعت کئے گئے،وہی مستقل اور غیر متبدل ہیں۔حضرت علامہ نے یہ تصور دیا تھا کہ آپ ان مستقل اقدار کو بطور حدود کے لیجئے،یہ غیر متبدل رہیں گی۔ان حدود کے اندر رہ کر بھی زمانے کے تقاضوں کے مطابق جزوی قوانین یا اس کے جزوی پروگرام کی جزئیات،ہر دور کی امت باہمی مشاورت سے خود متعین کرے گی،اس طرح یہ غیر متبدل اور تغیر کے امتزاج سے زمانے کے ساتھ ساتھ بلکہ زمانے کی امامت کرتا ہوا نظام آگے بڑھے گا۔مستقل نظام کی یہ ایک شکل ان کے ذہن میں تھی۔اقبالؒ قرانِ حکیم کو اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب سمجھتے تھے،ان کا ایمان تھا کہ اس کتاب کو قیامت تک کے لئے محفوظ رکھا گیا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن قیامت تک امّت کی سیاست،مملکت اور مورِدنیا کا ایک دستور اساسی رہے گا،اس اعتبار سے یہ ایک مستقل نظام ہوا،لیکن جو اس کی جزئیات ہیں،وہ زمانے کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ بدلتی چلی جائیں گی۔بالفاظ دیگر مستقل اور تغیر پذیر عناصر کے امتزاج سے یہ نظام بنتا ہے۔مستقل نظام کا یہی نقشہ حضرت علامہ کے ذہن میں تھا۔یہ تصور انہوں نے قرآن سے لیا اور یہی قابل تصور عمل تھا۔اقبال چاہتے تھےکہ برصغیر میں مسلمانوں کی ایک الگ مملکت ہو،جس میں اس نظام کو نافذ کریں اور اس کی جزئیات کو ممکن العمل بنائیں اور اس کے جو انسانیت ساز نتائج ظہور پذیر ہوں ،انہیں دیکھ کر پہلے مسلمان مملکتیں غالباً اور اس کے بعد دنیا کی دوسری اقوام بھی اس کی طرف لپک کر آجائیں گی۔

س: اقبالؒ کے ذہن میں اسلامی نظام کا کیا تصور تھا؟
ج: اس زمانے میں سب سے بڑا اعتراض یہ پیدا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں اس قدر فرقے ہیں،جن کی موجودگی میں ایک اسلامی مملکت،ایک اسلامی نظام یا ایک اسلامی دستور پر متفق ہونا کیسے ممکن ہے؟ علامہ اقبالؒ اس کے جواب میں فرماتے تھے۔

”ٹھیک ہے،فرقوں کی موجودگی میں جانتا ہوں،لیکن ان سب کے اندر قرآن ایک قدر مشترک ہے؟اور اگر ان کی اساس قرآن ہو گی،تو اس سے کوئی انکار نہیں کریگا“۔

”فکری روابط کی بڑی اہمیت ہے،ان حضرات(ائمہ کرام،جنہوں نے فقہ مرتب کی) نے اپنے وقت میں بڑا کام کیا ہے،میں اس کی قدر کرتا ہوں،لیکن اس تمام ہمہ گیری کے باوجود یہ قانونی ضوابط بالآخر انفرادی تعبیرات کا مجموعہ ہیں،اس لئے انہیں حتمی اور قطعی سمجھ لینا غلط ہے“۔

حضرت علامہ کہتے تھے کہ یہ پچھلے حالات تھے،مگر اب حالات بدل چکے ہیں اور دنیائے اسلام ان تمام نئی قوتوں سے دوچار اور متاثر تھے،جو زندگی کے مختلف گوشوں ،میں فکر انسانی کی نشو و ارتقاء سے وجود میں آگئی ہیں،اس لئے مجھے کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ اس قدامت پرستانہ ذہنیت کو باقی رکھا جائے۔اس لئے انہوں نے کہا:۔

”خود قرآن کی یہ تعلیم کہ حیات ایک ترقی پذیر عمل ارتقاء ہے اس کی مقتضی کہ۔۔۔۔۔۔۔“

یہ ہیں وہ الفاظ جو بڑی اہمیت رکھتے ہیں:

”ہر نئی نسل کو اس کا حق ہونا چاہیئے کہ وہ اپنی مشکلات کا حل خود تلاش کرے،وہ ایسا کرنے میں سلف کے علمی سرمایہ سے رہنمائی لے سکتی ہے،لیکن اسلاف کے فیصلے اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے“۔

حضرت علامہ اقبالؒ کے چھٹے خطبے میں،جس کا ایک اقتباس میں نے سنایا ہے،اس کی تفصیل ملتی ہے،یہی وہ عملی طریق یا پروگرام ہے،جس کی رُو سے وہ اس سرزمین کو اسلامی نظام کا گہوراہ دیکھنے کے متمنی تھے۔

س : اقبالؒ نے جس جہانِ نو کا خواب دیکھا تھا۔کیا ہم اُس کے مطابق صیحح رُخ پر آگے بڑھے ہیں؟ اگر نہیں تو کیوں؟اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئیے؟
ج: پیش رفت تو درکنار،ہم بہت پیچھے چلے گئے ہیں،جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ 1930ء میں جب حضرت علامہ نے یہ تصور پیش کیا،تو کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھی تھی۔1938ء سے 1945ء تک قائداعظم جب اس تصور کو لے کر آگے بڑھے،تو بیم ورجا کا عالم تھا،اس زمانے میں مخالفت کچھ سطحی سی تھی،اس کے بعد جب یہ تصور عملی صورت اختیار کرنے لگا،تو مخالفت نظریاتی ہوتی چلی گئی اور اس میں تندی و تیزی اور تلخی بھی آتی چلی گئی۔بالآخر پاکستان معرضِ وجود میں آگیا،سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مملکت کیا تھی؟یہ تصور کیا تھا؟یہ عمل کیا تھا؟یہ عمل ،یہ تصور اور یہ مملکت ثنویت کو مٹانے کے لئے تھی۔پاکستان میں اقبالؒ کے تصور کا اسلامی نظام اسی صورت میں قائم ہو سکتا تھا کہ یہ ثنویت باقی نہ رہتی۔
اس میں کلام نہیں کہ اسلام کسی انسان کو کسی دوسرے انسان پر حکمرانی کا حق نہیں دیتا،اقتدار کی کوئی بھی شکل ہو،اسلام انسانوں پر اقتدار ختم کر دیتا ہے۔
اگر پاکستان میں اقبال کے تصور کی مملکت معرضِ وجود میں آجاتی،تو مذہبی پیشوائیت کی یہاں کوئی گنجائش نہ رہتی،حکمران طبقے نے اپنے دَور کے سیکولر نظام یہاں رائج کئے۔نام تو سارے اسلام کا لیتے رہے،کیونکہ اسلام کے نام پر دس سال تک،بلکہ اس بھی زیادہ یعنی 1930ء سے جنگ لڑی تھی،اب یہ کس طرح ممکن تھا کہ یہ لوگ اسلام کا نام لئے بغیر اپنے مقاصد کو عملی جامعہ پہنا سکتے۔
یہاں مجھے اجازت دیجئے کہ درمیان میں کہیں”میں“ آجائے،جس سے میں ہمیشہ گریز کرتا رہا ہوں،میں طبعاً کچھ ایسا واقعہ ہوا ہوں،لیکن بعض دفعہ؟؏

بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر

افسوس،اقبالؒ نے جس جہان نو کا خواب دیکھا تھا،وہ پورا نہ ہو سکا۔مگر میں مایوس نہیں ہوں۔اقبالؒ نے وہی کچھ کہا جو قرآن نے کہا ہے اور ہمارا تو ایمان ہے کہ اس نظام(اسلام)نے دنیا کے ہر نظام پر غالب آ کر رہنا ہے۔اگر ہم شروع ہی سے نوجوان طبقے بالخصوص طلباء کے نصاب ہی سے اقبال کو لازم کر دیتے تو آج ہمیں قنوطیت کا شکار نہ ہونا پڑتا۔اب اگر یہ انتظام ہو جائے،تو اقبالؒ کا تصور نئی نسل کے رگ و ریشے میں سما سکتا ہے۔میں تو اقبالؒ کے تصور کو،اس پیغام کو عام کرتا رہوں گا،یہ میرے ایمان کا جزو ہے۔یہ میرے دین کا فریضہ ہے۔آخر میں،میں عرض کروں گا کہ علی گڑھ یونیورسٹی قائم ہوئی،تو پاکستان کی مملکت وجود میں آگئی،اگر یہاں بھی ایسی درسگاہ قائم ہو جائے اور اقبالؒ کے تصور کو نصاب کا حصہ بنا دیا جائے،تو اقبالؒ نے جس جہانِ نو کا خواب دیکھا تھا،وہ شرمندہ تعبیرہو سکتا ہے،(ہاں) حضرت علامہ نے فرمایا تھا
”زود یا بدیر یہ سوال مسلم اقوام کے سامنے آنے والا ہےکہ اسلامی قوانینِ شریعت میں ارتقاء کی گنجائش ہے یا نہیں؟اصل مسئلہ یہ ہے۔یہ سوال بڑا اہم ہے اور بڑی ذہنی جدوجہد کا متقاضی،اس سوال کا جواب یقیناً اثبات میں ہونا چاہئیے۔بشرطیکہ اسلامی دنیا اس کی طرف عمرؓ کی رُوح کو لے کر آگے بڑھے“۔
اس سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ اقبالؒ کے پیغام اور ان کے فکر کو عام کرنے کے لئے ہم کہاں تک آگے بڑھے ہیں؟ اور اگر نہیں بڑھے،تو کس سمت کو جا رہے ہیں،درحقیقت مخالفینِ اقبالؒ کی خواہش ہے کہ ؏

ہو نہ جائے آشکارا شرعِ پیغمبؐر کہیں

اس میں جس کو شرع پیغمبری یا نظام اسلامی کہا جا سکتا ہے وہ تو اقبالؒ کے تصور سے پیدا ہوتا ہے(اور اب) ہم آہستہ آہستہ وہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ مذہبی پیشوائیت جس کا دائرہ ابتداء میں مذہب تک محدود تھا اب سیاست میں در آیا ہے،حالت یہ ہو گئی ہے ہم آگے نہیں بڑھے ،بلکہ بہت پیچھے چلے گئے ہیں،اور ہماری یہ کیفیت تاریخ کے کسی دَور میں بھی نہیں ہوئی کہ مذہب پرست طبقہ سیاست کے اوپر حاوی ہو جائے۔

س: کیا یہ بات نہیں کہ اقتدار ہمیشہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں رہا،جو مذہب سے بے گانہ تھے اور صرف سیاست جانتے تھے؟اس لئے اگر یہ تجربہ دیکھ لیا جائے،تو کیا مضائقہ ہے؟
ج: مگر میری ذاتی رائے میں اگر انتخابات میں ایسا ہوا،تو ہو سکتا ہے،مذہبی طبقہ اس فکر میں ہے کہ اقبالؒ کی فکر آگے نہ آئے۔حکمران طبقوں کے مفاد میں بھی یہ بات ہے کہ سیکولر نظام ہی رہے۔سرمایہ دار طبقہ کی بھی یہی خواہش ہے،کیونکہ یہ ان کے مفاد میں ہے،اقبالؒ اور قرآن سرمایہ داری کے مخالف ہیں۔
(یہ سب گروہ) فکرِاقبال کے مخالف ہیں کیونکہ یہ طبقے نہیں چاہتے کہ یہاں اسلامی نظام رائج ہو جائے۔

س: تو پھر اقبال کی فکر کو عام کون کرے گا؟
ج: جس کو جرأت نصیب ہو گی،وہی اقبالؒ کی فکر کو عام کرے گا۔ایسی جرأت جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروقؓ کو بخشی تھی،بقول اقبالؒ :
”وہ عمرؓ جو اسلام کا سب سے پہلا تنقیدی اور حریّت پسند قلب ہے،وہ جسے رسول اللہﷺ کی حیات طیبہ کے آخری لمحات میں یہ کہنے کی جرأت نصیب ہوئی کہ ہمارے لئے اللہ کی کتاب کافی ہے“۔
جرأت کے فقدان کے بغیر اقبالؒ کا تصور یا پیغام عام نہیں ہو سکتا۔جرأت کے بغیر یہ تصور،یہ پیغام یا تو شاعری ہو جائے گا،یا پھر قوالوں کی ڈھولک پر گایا جائے گا۔
(بشکریہ فکر ونظر،مجلہ ادارہ تحقیقاتِ اسلامی،اسلام آباد،
خصوصی شمارہ نومبر،دسمبر 1977ءجلد 15 شمارہ 5/6)

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates