• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Kashmir Banay Ga Pakistan Speech in Urdu Written

Kashmir Banay Ga Pakistan Speech in Urdu Written

Posted in   Urdu Speeches   on  July 23, 2021 by  admin

کشمیر بنے گا پاکستان

صدر گرامی قدر اور معزز حاضرین! آج مجھے جس موضوع پر اظہار خیال کرنا ہے وہ ہے

کشمیر بنے گا پاکستان

جناب والا! کشمیر بلا شبہ پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ یہ الفاظ میرے نہیں بلکہ قائد اعظم محمد علی جناح کے ہیں۔ آپ نے یہ الفاظ اس وقت ارشاد فرمائے تھے جب پاکستان کی منزل قریب آ رہی تھی۔ انگریز اور ہندو مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال پھیلا رہے تھے ۔ تقسیم بر صغیر کا مرحلہ قریب تھا اور ہندو راہنما کشمیر کو غصب کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ اس فیصلہ کن موڑ پر قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، اور واضح کر دیا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔
محترم حاضرین! کشمیر کی اسی فیصد آبادی مسلمان ہے مگر اس پر ہندو سامراج حکومت کر رہا ہے، مسلمان ذلت و رسوائی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کشمیر پر مسلمانوں نے سات سو برس حکومت کی ہے۔ اس پر پہلے سکھوں نے اور پھر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ انگریزوں کو رقم کی ضرورت پڑی تو انہوں نے 1846ء میں پوری ریاست کشمیر 75 لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض گلاب سنگھ کو فروخت کر دی۔ گویا ایک کشمیری کی قیمت سات روپے مقرر ہوئی۔ پوری تاریخ انسانیت میں یہ پہلا موقع تھا کہ ایک قوم کو چند سکوں کے عوض فروخت کر دیا گیا ہو۔ پھر ڈوگرہ راج کا ستم ناک دور شروع ہوا۔ مسلمانوں کے لیے جینا دشوار کر دیا گیا۔ اس دور کے حوالے سے شاعر نے کہا تھا۔

ہر گل کی جبیں پر شکن ہے
کشمیر لٹا ہوا چمن ہے
ہونٹوں پہ رکے ہوئے ہیں شعلے
آنکھوں میں جمی ہوئی جلن ہے

جناب والا! تقسیم ہند کے وقت تسلیم کیا گیا تھا کہ ریاستوں کے عوام اپنی مرضی کے مطابق اپنی قسمت کا خود فیصلہ کریں گے، لیکن جب اہل کشمیر نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو ہندوستان نے وہاں کے ہندو مہاراجہ کے ساتھ مل کر اپنی فوجیں داخل کر دیں۔ انگریز بھی اس سازش میں برابر کے شریک تھے۔ مسلمانوں نے اپنی قسمت کا سودا ہوتے دیکھا تو ہندو سامراج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ ایک طرف بھارتی افواج اور ان کا زبردست اسلحہ تھا اور دوسری طرف پرانے اور معمولی اسلحہ سے لڑنے والے کشمیری آزادی پسند۔ بالآخر پاکستانی افواج کو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا پڑی اور آج کشمیر کے نام سے ایک حصے کوآزاد کرا لیا۔ ہندو سامراج نے جب کشمیر کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو پنڈت نہرو نے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ 1948ء اور پھر 1949ء کی قراردادوں میں سلامتی کونسل نے واضح طور پر اعلان کیا کہ کشمیر کے عوام سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے پوچھی جائے کہ وہ کس ملک کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔
صدر محترم ! یہی نہیں بلکہ ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی پارلیمنٹ میں خود اعلان کیا کہ “اگر آزادانہ رائے شماری کے حوالے سے کشمیریوں نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا تو بھی ہم قبول کر لیں گے”۔
مگر وہ دن اور آج کا دن ہندوستان بڑی بے شرمی سے کشمیریوں پر ستم ڈھا رہا ہے۔ 1965ء اور پھر 1971ء میں پاک بھارت معرکے ہو چکے مگر ہندوستان کشمیریوں کی قسمت کے ساتھ مسلسل کھیل رہا ہے۔
صدر والا قدر!آج بھارتی سامراج کے ظلم و تشدد کا آتش فشاں دہکا ہوا ہے۔ کشمیر کے آزادی سند مسلمان جرات و ہمت کی نئی داستانیں رقم کرنے کے لیے میدان عمل میں نکل آئے ہیں۔ آج کشمیر میں ہر گھر مورچہ ہے تو ہر گلی میدان جنگ ۔کشمیر کے گھر گھر میں شہیدوں کے لہو سے چراغاں کیا جا رہا ہے۔ اہل کشمیر کسی قسم کی بیرونی امداد کے بغیر اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں۔ ان کے ارادے عظیم ہیں اور حوصلے فراخ۔ وہ اپنے ہی لہو میں ڈوب کر آزادئ کشمیر کا پرچم لہرا رہے ہیں ۔ وہاں کی جنت آج بھارتی دہشت گردوں کی زد میں ہے لیکن وہاں کے آزادی پسند مجاہدوں کے ہر سانس سے “کشمیر بنے گا پاکستان” کی صدا ابھر رہی ہے۔ بارگاہ خداوندی میں اٹھے ہوئے ہاتھ پکار رہے ہیں۔

پنجہء ظلم و جہالت نے برا حال کیا
بن کے مقراض ہمیں بے پر و بال کیا
توڑ اس دستِ جفا کیش کو یا رب جس نے
روح آزادئ کشمیر کو پامال کیا

والا مرتبت! کشمیر بنے گا پاکستان۔ یہ ایک نعرہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔ پاکستان اور کشمیر بے شمار رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا رشتہ اسلام اور دو قومی نظریہ کا ہے۔ پاکستان اور کشمیر کی تہذیب یکساں ہے، تمدن ایک ہے، تاریخ کے تقاضے ایک جیسے ہیں۔ کشمیر اولیائے کرام اور صوفیائے عظام کی سرزمین ہے۔ پاکستان اور کشمیر کی ثقافت کی خوشبو ایک ہے ان کے عقائد اور رسوم میں ہم آہنگی ہے۔
جنا ب والا! یہی نہیں بلکہ دونوں کے درمیان جغرافیائی وحدت ہے۔ پاکستان میں بہنے والے دریاؤں کا پانی کشمیر سے آتا ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی جغرافیائی دیوار یا رکاوٹ نہیں۔ دونوں کے تمام راستے ایک دوسرے کی طرف جاتے ہیں۔ ہر پاکستانی کا دل اہل کشمیر کے لیے دھڑکتا ہے اور کشمیرکے در و دیوار سے پاکستان زندہ باد کی صدائیں ابھرتی ہیں اور ایک ہی عزم کا اظہار ہو رہا ہے کہ

یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت
جنت کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی

محترم حاضرین! سوال پیدا ہوتا ہے کہ کشمیریوں کا قصور کیا ہے؟ ایک پرندہ جال سے رہائی چاہتا ہے تو ایک کروڑ سے زائد کشمیریوں کے لیے آزادی کیوں نہیں؟ وہاں آزادی کے نام پر زبان کٹتی ہے۔ پاکستان کی محبت کے نا م پر پھانسی ملتی ہے۔ سچ بولنے پر قید و بند کی سزا ملتی ہے۔ نہتے کشمیریوں کو خاک و خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔ ہر طرف آگ اور خون کا سیلاب رواں ہے۔ کشمیریوں پہ ہر لحظہ و ہر آن قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ حوا زادیوں کی عصمتوں کے آبگینے پارا پارا کیے جا رہے ہیں۔ کشمیر کے حریت پسند وں کو قید و بند کی صعوبت سے گزارنے کے ساتھ ان پر قہر و ہولناکی کے آتش فشاں برسائے جا رہے ہیں۔ وہاں قائم کیے گئے عقوبت خانے ہٹلر اور چنگیز خان کے مظالم کو شرما رہے ہیں۔ زندہ انسانوں کو شکنجوں میں کس کر ان کا بند بند ہتھوڑوں سے توڑا جاتا ہے۔ ناخن کھینچے جاتے ہیں۔ جسم کے نازک حصے داغے جاتے ہیں۔ سروں اور داڑھیوں کے بال نوچے جاتے ہیں۔ جب وہ پیاس کی شدت سے بے چین ہو کر پانی طلب کرتے ہیں تو انہیں جانوروں کا پیشاب پینے پر مجبور کیا جاتاہے۔ اس قہر ناکی پر ہر درد مند دل چیخ اٹھتا ہے۔

یہ چمن اغیار کی شعلہ خرامی کے لیے
یہ ثمر شیریں ہیں اپنی تلخ کلامی کے لیے
زندگانی ہے یہاں مرگ دوامی کے لیے
مائیں جنتی ہیں یہاں بچے غلامی کے لیے
ہر نفس اک سلسلہ ہے قید بے زنجیر کا
ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیر کی تصویر کا

حضرت والاتبار! آج ضرورت ہے کہ آزادی کی جنگ لڑنے والے کشمیریوں کی ہر سطح پر امداد کی جائے۔ ہماری حکومت اور عوام جاگ رہے ہیں مگر کشمیر کی آزادی ہم سے مزید قربانی طلب کرتی ہے۔ آج ضرورت ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کو ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھایا جائے۔ امت اسلامیہ کو بیدار کیا جائے۔ کشمیریوں کی امداد دہشت گردی نہیں بلکہ بین الاقوامی اخوت کا تقاضا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے بلا تاخیر سمجھ لینا چاہیے۔ یہ ابدی صداقت ہے۔ باطل قوتیں جس قدر چاہیں ظلم و ستم کر لیں ، بھارتی سامراج جھوٹے انتخابات کے جتنے مرضی روگ رچا لیں، کشمیر بالآخر پاکستان بنے گا۔ پاکستان کو دنیا کے کسی بھی محاذ پر کامیابی ملتی ہے تو کشمیر کے کوچہ و بازار “پاکستان زندہ باد” کی صداؤں سے گونج اٹھتے ہیں۔ ہر شہید ہونے والا کشمیری مجاہد کلمہ طیبہ کے نام پر شہید ہوتا ہے۔ وہاں کی مائیں اپنے بچوں کو پاکستان کی محبت کی لوریاں سنا کر جوان کرتی ہیں۔ یہی جذبہ ایک دن رنگ لائے گا اور کشمیر پاکستان بن جائے گا۔ ان شاء اللہ

وادئ کشمیر کے جنت نظاروں کو سلام
خون میں ڈوبی ہوئی سب رہگزاروں کو سلام
چرخ آزادی کے رخشندہ ستاروں کو سلام
سرفروشوں، غازیوں کو، شہریاروں کو سلام

صدر والا! یوں تو کشمیر کی جد و جہد آزادی قیام پاکستان سے پہلے سے جاری تھی مگر اسے حقیقی زندگی قیام پاکستان کے بعد ملی۔ اس جدوجہد آزادی نے 1990ء میں ایک نیا رخ اختیار کیا، جب تمام کشمیری اکابرین نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد ڈالی۔ اب کیا تھا، مقہور و بے بس کشمیری عوام نیا ولولہ عمل لے کر اٹھ کھڑے ہوئے، چنار سلگنے لگے،آزادی کی صدائیں پہلے سے کہیں زیادہ تیزی اور بلند آہنگی سے ابھرنے لگیں۔ قربانی و ایثار کی نئی داستانیں رقم ہونے لگیں۔ اب غلام کشمیر کو مناسب ، موزوں اور جرات مند قیادت میسر آگئی۔ ادھر آزادی کے متوالوں نے نئے عزائم کی روشنی میں آگے بڑھنے کے لیے نئے راستے تلاش کیے۔ یہ تما م راستے لہو رنگ تھے۔ ادھر داروسن کی آزمائشیں زیادہ شدت اختیار کر گئیں مگر حریت پسند کشمیریوں نے ثابت کر دیا کہ وقت کے ستم گر سیلِ آزادی کے سامنے جتنے چاہے بند باندھ لیں، آزادی کا

سورج ایک دن طلوع ہو کر رہے گا کیونکہ
سورج کا کام ہے نکلنا، سورج اک دن نکلے گا

کشمیر کے فرزندان حریت کے لیے خاک و خون سے اٹا ہوا راستہ کوئی نامانوس راستہ نہیں ہے ، یہ اس راہ آزادی پر اپنے خون کی لکیریں چھوڑتے ہوئے اس وقت سے آگے بڑھ رہے ہیں جب پہلے بار ان کے مقدر کا سودا ہوا تھا۔ اس دوران میں تاریخ نے کیا کیا تاریک باب رقم نہیں کئے۔ شیخ محمد عبد اللہ مسلم کانفرنس کے سربراہ کی حیثیت سے قائد ملت چوہدری غلام عباس کی ہمراہی میں آگے بڑھے اور شیر کشمیر کہلائے۔ مگر بہت جلد وہ پنڈت نہرو کے پھیلائے ہوئے حرص و آز کے جال کے اسیر ہو گئے اور زمانہ انہیں آج تک غدار کشمیر کے بدترین لقب سے یاد کرتا ہے اور مؤرخ ک ابے لاگ قلم ان کا شمار میر جعفر اور میر صادق جیسے ملت فروشوں میں کرتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ہی تاریخ کے اوراق پر چوہدری غلام عباس مرحوم صدر مسلم کانفرنس، میر واعظ سید یوسف ، میر واعظ سید محمد فاروق اور محمد مقبول بٹ جیسے فرزندان آزادی کا کارناموں کو عصر حاضر کا اعزاز دے کر رقم کرتا ہے۔
صدر محترم! بھارتی حکومت اس حقیقت سے مدتوں سے آگاہ ہے کہ کشمیر سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں بھارتی مسلح افواج داخل کر کے بھی بے سکون ہے، کیونکہ وہ اتنی بڑے فوج اور طاغوتی طاقت کے ہوتے ہوئے بھی کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچل نہیں سکا۔ وہ جان چکا ہے کہ جس قوم کے افراد ہتھیلی پر موت سجا کر مرنے اور مارنے کا جذبہ رکھتے ہوں ۔ آزادی ایک دن ان کے قدم ضرور چومتی ہے۔ حرص و آز کے جال پھیلا کر افواج باطل کو غاصبانہ طور پر ضبط کر کے ، ظالمانہ قوانین کانفاذ کر کے بھی بھارتی ضمیر اندر سے سہما ہوا ہے کہ وہ اپنی قوت قاہرہ کے باوجود بے بس ہے کیونکہ کشمیر پر اس کا قبضہ ہر لحاظ سے غیر منصفانہ اور غاصبانہ ہے۔ جبکہ پاکستان اور کشمیر جغرافیائی ، نظریاتی ،فکری اور روحانی طور پر ایک رشتے میں منسلک ہیں۔ ان کی رگوں میں صدیوں سے ایک ہی لہو رقصاں ہے اور کوئی طاقت ان رشتوں کو الگ نہیں کر سکتی –
اپنی اسی کمزوری کو دیکھتے ہی بھارت نے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں عسکری مداخلت کے الزام کو بار بار دہرانا شروع کر دیا – موجودہ حالات کے تناظر میں اس کے مگر مچھ کے آنسو مصلحتوں کے اسیر امریکہ اور برطانیہ کو بڑے اچھے معلوم ہو رہے ہیں- جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ مسئلہ کشمیر ا س کی غیر منصفانہ پالیسی کا پیدا کردہ ہے ۔ جبکہ امریکہ اسلام دشمنی اور یہود و ہنور کی دوستی میں بھارت کے الزامات کو اپنے رنگ میں دہرایا ہے – سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کب تک ہو گا ؟ سیل آزادی تو ہر بندہ اور ہر رکاوٹ کو توڑ کر منزلِ مقصود تک پہنچ کر ہی رکتا ہے – حکمرانِ اعلیٰ کو ئی دنیاوی سپر پاور نہیں بلکہ خدا ے واحد ع قہار ہے- وہ خدا جو فرعون کا غرور خاک میں ملاتا ، نمرود کو داستانِ عبرت بناتا ، قیصر و کسریٰ کو ذلت کے مدفنوں میں دفن کرتا اور چنگیز و ہلاکو کے تکبر کو صحرائے گوبی میں گم کر کے مظلوموں کو صبح آزادی کی نوید سناتا ہے ۔

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری

جنابِ والا کشمیر شاہ ہمدان کی سر زمین ہے ، نورالدین ولی کا روحانی مرکز ہے ، حضرت بل کے حوالے سے سرکار دو عالم ﷺ کے موئے مبارک کا مرکز نور ہے – لاکھوں شہدا ء کے مقدس خون سے کھیلنے والے گلستانوں کی بہار جاوداں ہے ۔آج اگرچہ یہ جنت نظیر وادی بھارتی سامراج کے ہاتھوں پامال ہے- یہاں کے لالہ زار اپنی سرخی سے زمین تو کیا آسمان بھی شفق رنگ نظر آتا ہے۔ بے شمار مظلوموں اور پنجہ استبداد میں تڑپنے والوں کی آہیں عرشِ الٰہی کا طواف کر رہی ہیں ، یہ سارا منظر اگرچہ سہا دینے والا ہے مگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہی صبح آزادی کی تمہید اول ہے۔ اقبال کے لفظوں میں

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

اور خون صد ہزار انجم سے پیدا ہونے والی سحر ہی عصر حاضر کا باطل شکن نعرہ ہے کہ “کشمیر بنے گا پاکستان”۔

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates