• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Kulyat-e-Iqbal Armaghan-e-Hijaz Dozakhi Ki Munajat

Kulyat-e-Iqbal Armaghan-e-Hijaz Dozakhi Ki Munajat

Posted in   Kulyat-e-Iqbal   on  June 9, 2021 by  admin

(Armaghan-e-Hijaz-06) Dozakhi Ki Munajat (دوزخی کی مناجات) Litany Of The Damned

  

دوزخی کی مناجات
اس دير کہن ميں ہيں غرض مند پجاری
رنجيدہ بتوں سے ہوں تو کرتے ہيں خدا ياد

معانی
پرانا جہان ،دنیا دیر کہن
اپنے مطلب کو پیش نظر رکنھے والا غرض مند
پوجنے والا پجاری
تکلیف اٹھانے والا رنجیدہ

مطلب:دوزخ میں پڑا ہوا شخص خدا سے التجا کرتا ہوا کہتا ہے کہ یہ دنیا ایک ایسے مندر کی سی ہے جس میں خواہشات نفسانی اور طاقت کے بت رکھے ہوئے ہیں اور دنیا والے اپنے اپنے مطلب کے لئے ان کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔تجھے تو محض اس وقت یاد کرتے ہیں جب وہ ان بتوں کے ہاتھوں تکلیف میں ہوتے ہیں اور ان کے لئےسوائے تجھے پکارنے کے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا ۔

پوجا بھی ہے بے سود، نمازيں بھی ہيں بے سود
قسمت ہے غريبوں کی وہی  نالہ و فرياد

معانی
ہندؤں یا غیر مسلموں کی عبادت پوجا
مسلمانوں کی عبادت نماز
بے فائدہ بے سود
رونا نالہ

مطلب :اپنی نفساتی خواہشات اور حکمرانوں کی حاکمیت اور طاقت کے آگے جھکنے کا نیتجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی عبادت ہو یا غیر مسلموں کی عبادت  ہو دونوں بے فائدہ ہیں۔ان غریبوں کی یعنی ان غیر اللہ سے مرعوب ہونے والوں کی قسمت میں رونا اور فریاد کرنا ہی لکھا ہے۔

قسمت ہے غريبوں کی وہی  نالہ و فرياد
ہيں گرچہ بلندی ميں عمارات فلک بوس

مطلب : ان خدا کو چھوڑ کر نفس اور طاقت کے بتوں کے آگے جھکنے والوں کے شہروں میں بڑی اونچی اونچی عمارات نظرآتی ہیں لیکن اصلیت میں وہ آبادی نما ویرانے ہیں کہ جن میں رہنے والے اہل یورپ کی غلامی کی وجہ سے تکلیف دہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔

 

تيشے کی کوئی گردش تقدير تو ديکھے
سيراب ہے پرويز، جگر تشنہ ہے فرہاد

مطلب: علامہ نے اس شعر میں دوزخی کی زبان سے مزدور اور سرمایہ دار، کاشت کار اور زمیندار،غریب اور جاگیردار وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دور کے مزدور اور کسان(جن کو اس نے فرہاد کہا ہے) پیاسے ہیں اور ان کی محنت سے فائدہ اٹھانے والے جاگیردار،نواب،بادشاہ اور زمیندار(جن کو اس نے پرویز کہا ہے) سیر ہو کر پانی پی رہے ہیں۔محنت کوئی کر رہا ہے۔اس سارے عمل کو اس نے ہتھوڑے کی قسمت کا چکر کہا ہے جس میں ہتھوڑا محنت کے نشان کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ہتھوڑا مزدور چلا کر پہاڑ سے نہر نکالتا ہے لیکن سیراب اس سے طاقت ور ہو رہا ہے۔

 

يہ علم، يہ حکمت، يہ سياست، يہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکر ملوکانہ کي ايجاد

مطلب : اس دور میں اہل مغرب نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر مختلف ممالک پر قبضہ جمایاپھر ان میں علمٗ فلسفہ ٗ سیاست اور تجارت  کےایسے طریقے رائج کئے جن کے ذریعے ان مفتوحہ علاقوں کے لوگ فاتحین کے دئیے ہوئےفریب میں مبتلا رہیں اور ان کی غلامی سے نہ نکل سکیں۔یہ سب کچھ ان کی شاہانہ اور ملوکانہ سوچ کا نیتجہ ہے اور غلام قوم سمجھتی ہے کہ حاکموں  نے ان کے لئے آسائشیں پیدا کی ہیں اور ترقی کے راستے مہیا کئے ہیں۔

 

اللہ! ترا شکر کہ يہ خطہ پر سوز
سوداگر يورپ کی غلامی سے ہے آزاد!

مطلب : دوزخ حالانکہ نہایت ہی تکلیف دہ جگہ ہے جس میں آدمی آگ میں جھلس رہا ہوتا ہے لیکن اہل مغرب نے دنیا کو تہذیب و ترقی کے نام پر اور غلام بنا کر جس قسم کا دوزخ بنا رکھا ہے اس سے تواصل دوزخ ہی بہتر ہے۔یہ یورپ کے تاجروں کی غلامی سے توآزاد ہے ۔اس نظم میں علامہ نے اہل مغرب کی سیاسیٗ تہذیبی ٗ ثقافتی اور تمدنی غلامی کو خلق خدا کے لئے ایک عظیم فتنہ اور المیہ قراد دیا ہے۔

 

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates