• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Kulyat-e-Iqbal Zarb-e-Kaleem-109 Takhleeq Creation

Kulyat-e-Iqbal Zarb-e-Kaleem-109 Takhleeq Creation

Posted in   Kulyat-e-Iqbal   on  June 13, 2021 by  admin

تخلیق

جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

معانی
نئی چیز پیدا کرنایا ایجاد کرناتخلیق
نئی دنیاجہان تازہ
نئے خیالاتافکارِ تازہ
ظہورنمود
پتھر اور اینٹسنگ وخشت

مطلب : یہاں علامہ نے افکار کی دنیا کی بات کی ہے نہ کہ اس دنیا کی جس میں ہم رہتے ہیں اور کہا ہے کہ افکار کے جہان میں نئے نئے خیالات سے نئے نئے جہان ظہور میں آتے ہیں۔یہ اینٹوں اور پتھروں کا جہان جس میں ہم رہتے ہیں اس میں تو اینٹ اور پتھر ہی کا نیا جہان بن سکتا ہے لیکن ایسا جہان جس میں نیا نظام اور نئے افکار ابھریں صرف انسانی خیالات اور فکر کے نیا پن سے پیدا ہوتا ہے۔

خودی میں ڈوبنے والوں کے عزم و ہمت نے

اس آبجو سے کیے بحر بے کراں پیدا

معانی
ارادہ اور حوصلہعزم و ہمت
ندیابجو
ایسا سمندر جس کا کنارا نہ ہوبحر بیکراں

مطلب :جو لوگ اپنی خود معرفتی اور خود شناسی کے دریا میں غوطہ لگائے ہوئے ہیں وہ لوگ ایسے ارادے اور اتنے حوصلے کے مالک ہوتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کی ندی کو اپنے خیالات و افکار کی تازگی کی بنا پر ایک ایسا سمندر بنا دیتے ہیں جس  کا کوئی کنارا نہ ہویعنی اس کے عزم اور ان کی ہمت کو کوئی حد نہیں ہوتی اور وہ ایسے نئے نئے جہان ہائے خیالات و افکار پیدا کرتے رہتے ہیں جن سے آدمیت  کا شرف بڑھتا ہے۔

وہی زمانے کی گردش پہ غالب آتا ہے

جو ہر نفس سے کرے عمر جاوداں پیدا

معانی
کہتے ہیں زمانہ گردش(حرکت) میں رہتا ہےجس سے دنیا میں حالات بدلتے رہتے ہیں۔زمانے کی گردش
فتح پاناغالب آنا
سانسنفس
ہمیشہ کی زندگیعمر جاوداں

مطلب: زمانہ اگر اپنی گردش کی وجہ سے ناموافق ہو تو اس نا موافق گردش پر وہی شخص غلبہ پا سکتا ہے اور اسے موافق  گردش میں لا سکتا ہے جو اپنی ایک ایک سانس سے ہمیشہ کی زندگی پیدا کرے۔یعنی ہر لمحہ کو اپنی ہمت اور کوشش سے حرکت زمانہ  کو بدلنے میں لگائے رکھے۔اور عزم و حوصلہ کو نہ چھوڑے۔ایسا وہی کر سکتا ہے جس کی خودی بلند  و ارفع ہو۔

خودی کی موت سے مشرق کی سر زمینوں میں

ہوا نہ کوئی خدائی کا راز داں پیدا

معانی
ایشیا اور افریقہ کے ملکمشرق کی سرزمین
راز پانے والارازداں

مطلب: علامہ کہتے ہیں میں نے مشرق کے ممالک  یعنی افریقہ اور ایشیا کے ملکوں میں دیکھا ہے یہاں نہ لوگوں کی انفرادی خودی بیدار ہے اور نہ جماعتی و ملکی بے خودی آشکارا ہے۔جس کا نیتجہ یہ ہے کہ وہ کمزور بھی ہیں اور غلام بھی ہیں۔ اگر ان میں ایک شخص بھی ایسا پیدا ہو جائے جو خودی کا بھید جانے والا اور خود مالک خودی ہو تو مشرق ملکوں کی تقدیر بدل سکتی ہے اور زمانے کی گردش بھی (جس کا اس سے پہلے شعر میں ذکر آیا ہے) وہی شخص کر سکتا ہے اور یہ مالک خودی اللہ کا کوئی برگزیدہ و چیدہ بندہ ہو گا۔وہ جو درویشی اور فقر کے  ملک کا شہنشاہ ہو گا جس میں تقدیر یں بدلنے کی صلاحیت ہو گی لیکن خدا جانے  خدائی اور خودی کا ایسا راز دان کیوں پیدا نہیں ہو رہا ۔

ہوائے دشت سے بوئے رفاقت آتی ہے

عجب نہیں ہے کہ ہوں میرے ہم عناں پیدا

معانی
بیابان کی ہواہوائے دشت
ساتھی ہونے کی خوشبوبوئے رفاقت
ہم زمام،ہم خیال اور ہم کارہم عناں

مطلب: بیابان کی ہوا سے مجھے دوستی اور ہم خیالی کی خوشبو آرہی ہے۔کوئی تعجب نہیں اگر مجھے یہاںمیرے ہم نوا ہم خیال اور ہم کار مل جائیں۔بیابان مشرق ممالک کو کہاں ہے اور اپنی شاعری کو ایسی نوا کہا ہے جو ان کو جگانے کے لئے کئی گئی ہے۔ شاعر کو یقین ہے کہ اس کی شاعری کے ‍ ذریعے مشرقی ممالک میں کچھ لوگ ایسے ضرور پیدا ہو جائیں گے جو اس طرح کے افکار اور خیالات رکھتے ہوں گے۔

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates