• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Madniyat-e-Islam The Way Of Islam by Allama Iqbal

Madniyat-e-Islam The Way Of Islam by Allama Iqbal

Posted in   Kulyat-e-Iqbal   on  August 7, 2021 by  admin

مدنیت اسلام

بتاؤں تجھ کو مسلماں کی زندگی کیا ہے

یہ ہے نہایت اندیشہ و کمال جنوں

معانی
تمدن جو تہذیب و ثقافت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اس نظم میں ایک مثالی مسلمان کی زندگی کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ مدنیت اسلام
فکر کی آخری حد ،عقل کی بلندی و رفعت نہایت اندیشہ
(عشق کا کمال) کمال جنوں

مطلب: یاد رکھو مسلمان وہ ہے جس کی زندگی کے دو بنیادی اور بڑے جوہر ہیں۔پہلا جوہر عقل کا ہےجو اس میں درجہ کمال تک ہوتی ہے اور دوسرا جوہر عشق کا ہے وہ بھی اس میں کمال کی اس حد تک ہوتا ہے کہ ہم اسے جنوں کہہ سکتے ہیں۔مسلمان عقل اور عشق کے ان اعلیٰ و ارفع کمالات کا مجموعہ ہوتا ہے۔

طلوع ہے صفت آفتاب اس کا غروب

یگانہ اور مثال زمانہ گو نا گوں!

معانی
سورج کا نکلنا طلوع
زمانہ کی مانند مثال زمانہ
رنگارنگ گوناگوں

مطلب :مسلمان ایک بے مثل اور بے مثال شخص ہوتا ہے۔زمانہ کی طرح رنگارنگ یعنی زمانے کے مطابق خود کو پورا اتار کر مگر اسلام کو نہ چھوڑتے ہوئے اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔اس کا مرنا جینا،اس کا عروج و زوال اس کا زندگی میں کم و پیش ہونا برابر ہوتا ہے۔جس طرح آفتاب (سورج) ادھر غروب ہوتا ہے ادھر طلوع ہوتا ہو جاتا ہے اسی طرح مسلمان بھی ادھر مرتا ہے ادھر عالم برزخ میں پھر نکل آتا ہے ۔ادھر اگر کم ہو گیا تو دوسرے لمحے اس کمی کو پورا کر لیتا ہے۔اس کا غروب و طلوع برابر ہے۔

نہ اس میں عصر رواں کی حیا سے بیزاری

نہ اس میں عہد کہن کے فسانہ و افسوں

معانی
دور حاضر،مغربی تہذیب کا دور عصر رواں
نفرت بیزاری
پرانا زمانہ عہد کہن
کتھا،جنتر منتر اور جادو فسانہ و افسوں

مطلب: مسلمان کی مدنیت(تہذیب/ثقافت اور تمدن) میں دور حاضر کی طرح حیا سے بیزاری نہیں ہے۔بلکہ اس کے نزدیک تو حیا نصف ایمان ہے۔حیا ایک مسلمان خصوصاً مسلمان عورت کا بنیادی جوہر ہے۔حیا اور ایمان کے اس تعلق کی بنا پر مسلمان کی زندگی کے ہر شعبہ میں حیاکارفرماہوتی ہے اور نہ وہ جادو گری کو مانتا ہے وہ تو صرف توحید و رسالت کا شیدائی ہے اس اسلامی مدنیت وہ ہےجوان دو محوروں یعنی توحید و رسالت کے گرد(جو ایک ہی مشترکہ کے محور کے دو جزو ہیں)گھومتی ہے۔

حقائق ابدی پر اساس ہے اس کی

یہ زندگی ہے، نہیں ہے طلسم افلاطوں!

معانی
ہمیشہ کی حقیقت حقائق ابدی
بنیاد اساس
جادو طلسم
ایک یونانی حکیم تھا۔جو زندگی کو وہم و خیال تصور کرتا تھا افلاطون

مطلب :مسلمان کے تمدن و ثقافت اور تہذیب کی بنیاد ان حقیقتوں پر ہے جو کبھی نہیں بدلتیں۔اس میں زندگی کو ایک حقیقت (حقیقی شے) سمجھا جاتا ہے نہ کہ یونانی حکیم افلاطون کی طرح اسے وہم و خیال تصور کیا جاتا ہے۔جو ایسا سوچے گا وہ دنیا سے گریز اور زندگی سے نفرت کرے گا لیکن جو زندگی کی حقیقت سمجھے گا وہ اسے زمہ داری سے گزارے گا۔

عناصر اس کے ہیں روح القدس کا ذوق جمال

عجم کا حسن طبیعت ، عرب کا سوز دروں!

معانی
عنصر کی جمع(آگ ،پانی،مٹی،ہوا،وغیرہ) اجزائے ترکیبی۔ عناصر
حضرت جبرئیل روح القدس
نفاست اور پاکیزگی کا ذائقہ ذوق و جمال
غیر عرب عجم
طبعیت کا حسن حسن طبعیت
اندر کا سوز،عشق سوز دروں

مطلب: اسلامی مدنیت کے اجزائے ترکیبی تین ہیں۔ایک جز حضرت جبرئیل کے ذوق کا حسن پوشیدہ ہے۔دوسرے جز میں عرب کے علاوہ جو قومیں ہیں،خصوصاً اہل فارس کی طبعیت کا حسن موجود ہے اور تیسرے جز میں عربوں کا سوز دروں(عشق کی حرارت) شامل ہے۔مدینت اسلام،جبرئیل کی روح کی طر ح پاکیزہ بھی ہے۔اہل فارس کے طبائع کی طرح حسین بھی ہے اور عربوں کے دلو ں کی طرح پر سوز پر جوش بھی ہے۔

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates