• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah Quotes About Quran

Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah Quotes About Quran

Posted in   Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah   on  June 19, 2021 by  admin

فرموداتِ قائداعظمؒ

قرآن کریم

 میں نہ کوئی مولوی ہوں نہ ملا ٗ نہ مجھے دینیات میں مہارت کا دعویٰ ہے،البتہ میں نے قرآن مجید اور قوانینِ اسلامیہ کے مطالعہ کی اپنے طور پر کوشش کی ہے ٗ اس عظیم الشان کتاب کی تعلیمات میں انسانی زندگی کے ہر باب کے متعلق ہدایات موجود ہیں ٗ  زندگی کا روحانی پہلو ہو یا معاشرتی ٗ  سیاسی ہو یا معاشی غرض یہ کہ کوئی شعبہ ایسا نہیں جو قرانی تعلیمات کے احاطے سے باہر ہو”۔

(عثمانیہ یونیورسٹی،حیدرآباد دکن۔1941ء)


“بعض لوگ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام کیا ہے؟ یہ لوگ یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ میں اسلام سے ناواقف ہوں ٗ  میں نے قرآن کریم کو باربار بغور پڑھا ہے اور جب میں نے یہ کہا تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظام قائم ہو گا تو یہ محض ادعا اور بڑ نہیں تھی”۔


آپ نے مجھ سے ایک پیغام کی خواہش کی ہے۔میں بھلا آپ کو کیا پیغام دے سکتا ہوں ٗ  روشنی اور راہنمائی کے لئے تو ہم سب قرآن کے عظیم ترین پیغام سے فیضیاب ہیں۔

(فرنٹیئر مسلم اسٹوڈنٹس کانفرنس۔14 اپریل 1943ء)

جب ہمارے پاس قرآن کریم ایسی مشعل ِ ہدایت موجود ہے تو پھر ہم اس کی روشنی میں ان اختلافات کو کیوں نہیں مٹا سکتے؟

پیغام عید۔13نومبر 1945ء

اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیشِ نظر رہنا چاہئے کہ اس میں اطاعت اور وفا کیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں ٗ  اسلام میں اصلاً نہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمان کی ٗ  نہ کسی اور شخص یا ادارے کی ٗ  قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کے حدود متعین کر سکتے ہیں اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے۔

(عثمانیہ یونیورسٹی ٗ حیدر آباد دکن۔1941ء)

اس حقیقت سے ٗ  سوائے جہلاء کے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں  کا ضابطۂ حیات ہے۔یہ ضابطۂ حیات ٌ  مذہب ٗ معاشرت ٗ  تجارت ٗ  عدل ٗ  فوج ٌ  سول ٌ فوجداری کے تمام قوانین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔مذہبی رسوم ہوں یا روزمرہ کی زندگی کے عام معاملات ٗ  روح کی نجات کا سوال ہو یا بدن کی صفائی کا ٗ  اجتماعی واجبات کا سوال ہو یا انفرادی حقوق کا ٗ  اخلاقیات کا معاملہ ہو یا جرائم کا ٌ  اس دنیا میں مجرموں کی سزا کا سوال ہو یا آخرت کی عقوبت کا ٌ  ان تمام معاملات کے لئے اس ضابطہ میں قوانین موجود ہیں اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر مسلمان کو قرآن کا نسخہ اپنے پاس رکھنا چاہئے اور اس طرح اپنا مذہبی پیشوا آپ بن جانا چاہئے۔

(عید کا پیغام۔1945ء)

اس وقت میدان سیاست میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی جنگ ہو رہی ہے،لوگ پوچھتے ہیں کہ کون فتح یاب ہو گا ٌ  علم غیب تو خدا کو ہے لیکن میں ایک مسلمان کی حیثیت سے علیٰ روس الا شہاد کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہم قرآن مجید کو اپنا آخری اور قطعی رہبر بنا کر ثبات و استقامت پر کاربند رہیں اور اس ارشاد خداوندی کو کبھی فراموش نہ کریں کہ مسلمان سب بھائی بھائی ہیں توہمیں دنیا کی کوئی طاقت یا کئی طاقتوں کا مجموعہ بھی مغلوب نہیں کر سکتا۔

(جلسۂ عام حیدرآباد دکن۔11 جولائی 1946)


وہ کیا چیز ہے جس سے مسلمانوں کو ایک رشتے میں پرورکھا ہے ٗ وہ کون سی چٹان ہے جس پر ان کی ملی عمارت کی بنیاد ہے ٗ وہ کونسا لنگر ہے جس سے ان کی کشتی بندھ رہی ہے؟

ان سوالوں کا جواب ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ یہ محکم رشتہ ٗ یہ سنگین چٹان ٗیہ آہنی لنگر خدا کی وہ کتاب عظیم(قرآن کریم) ہے جس نے تمام مسلمانوں کو جسدِ واحد  بنا رکھا ہے ٗ مجھے یقین ہے کہ جوں جوں ہم آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں وحدت زیادہ ہوتی جائے گی ٗ اس لئے کہ ہمارا خدا ایک ٗ خدا کی کتاب ایک ٗ اس کارسول ایک ٗ اس لئے ہماری ملت بھی ایک ہے۔

(مسلم لیگ کراچی سیشن میں تقریر)


اگر ہم قرآن مقدس سے تحریک اور ہدایت حاصل کریں تو میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ آخری فتح ہماری ہو گی۔

تیرہ صدیاں گذر جانے پر بھی اچھے اور برے احوال و ظروف کے باوجود جن سےمسلمان گزرے ہیں ٗ ہم لوگ اپنی عظیم اور مقدس کتاب پر نازاں ہی نہیں رہے ہیں بلکہ ان تمام زمانوں میں اس کے جملہ اصولوں کے ساتھ ہمارا تعلق برقرار رہا ہے۔

اس حقیقت سے ہر مسلمان باخبر ہے کہ قرآن کے قوانین صرف مذہبی اور اخلاقی حدود تک محدود نہیں ٗ گبنؔ ایک مقام پر لکھتا ہے کہ بحر اٹلانٹک سے لے کر گنگا تک ہر جگہ قرآن کو ضابطۂ حیات کے طور پر مانا جاتا ہے جس کا تعلق صرف الہٰیات تک نہیں بلکہ وہ مسلمانوں کے لئے سول اور فوجداری قوانین کا ضابطہ ہے جس کے قوانین نوع انسان کے تمام احوال و اعمال کو محیط ہے اور وہ منشائے خداوندی کے مظہر ہیں۔ اس حقیقت سے ٗ  سوائے جہلاء کے ہر شخص واقف ہے کہ قرآن مسلمانوں  کا ضابطۂ حیات ہے۔یہ ضابطۂ حیات ٌ  مذہب ٗ معاشرت ٗ  تجارت ٗ  عدل ٗ  فوج ٌ  سول ٌ فوجداری کے تمام قوانین کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے۔مذہبی رسوم ہوں یا روزمرہ کی زندگی کے عام معاملات ٗ  روح کی نجات کا سوال ہو یا بدن کی صفائی کا ٗ  اجتماعی واجبات کا سوال ہو یا انفرادی حقوق کا ٗ  اخلاقیات کا معاملہ ہو یا جرائم کا ٌ  اس دنیا میں مجرموں کی سزا کا سوال ہو یا آخرت کی عقوبت کا ٌ  ان تمام معاملات کے لئے اس ضابطہ میں قوانین موجود ہیں اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تھا کہ ہر مسلمان کو قرآن کا نسخہ اپنے پاس رکھنا چاہئے اور اس طرح اپنا مذہبی پیشوا آپ بن جانا چاہئے۔

(تقاریر و تحریراتِ جناحؒ حصہ دوم صفحہ 405)

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates