• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Quaid e Azam Quotes On Two Nation Theory

Quaid e Azam Quotes On Two Nation Theory

Posted in   Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah   on  July 1, 2021 by  admin

فرموداتِ قائداعظمؒ

دو وقومی نظریہ

میرے لئے یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ آخر ہمارے ہندو بھائی،اسلام اور ہندو مت کی حقیقت اور اہمیت کو سمجھنے سے کیوں گریز کر رہے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں مذہب نہیں بلکہ ایک دوسرے سے یکسر مختلف معاشرتی نظام ہیں اور اس بناء پر متحدہ قومیت ایک ایسا خواب ہے جو کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا،ہندوستان میں ایک قوم کا غلط تصور حد اعتدال سے تجاوز کر گیاہے اور ہماری بہت سی مشکلات اسی کا نیتجہ ہیں اگر ہم نے بر وقت اپنے رحجانات کی اصلاح نہ کی تو نیتجہ پورے ہندوستان کی تباہی ہو گا،یاد رکھئے کہ ہندو اور مسلمان مذہب کے معاملہ میں دو جدا گانہ فلسفے رکھتے ہیں،دونوں کی معاشرت ایک دوسرے سے مختلف ہے،دونوں کا ادب جدا جدا ہے۔نہ تو آپس میں شادیاں رچا سکتے ہیں اور نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھا سکتے ہیں،حقیقتاً وہ دو الگ الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ان کی تاریخیں مختلف،ان کا رزمیہ جداجدا،اور مشاہیر الگ الگ۔عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ان کی فتح و شکست کی حیثیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں،دو ایسی قوموں کو ایک نظام سلطنت میں یکجا کر دینا،باہمی مناقشت کو بڑھائے گا اور بالآخر اس نظام کو پاش پاش کر ڈالے گا،جو اس ملک کی حکومت کے لئے وضع کیا جائے گا۔

(سالانہ اجلاس مسلم لیگ لاہور۔مارچ 1940ء)

یاد رکھئے کہ جس مقصدِ عظیم کے لئے ہم برسر پیکار ہیں وہ محض مادی مفاد پر مبنی نہیں بلکہ یہ ملتِ اسلامیہ کی روح کی پکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ اسے مسلمانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتا ہوں اوراسے سودے بازی کہنا سر بسر غلط ہے،مسلمان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ اگر ہم نے یہ بازی ہار دی تو ہم سب کچھ کھو بیٹھیں گے۔

(خطبۂ صدارت پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن۔یکم مارچ 1941ء)

یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہم ایک اقلیت نہیں،ہم ایک قوم ہیں اور ایک قوم کو ایک خطۂ ارض کی ضرورت ہوتی ہے،قومیں ہوا میں زندگی بسر نہیں کر سکتیں،ایک قوم کو خطۂ ارض پر زندہ رہنا ہے۔اسے اس سرزمین پر اپنا نظام مملکت قائم کرنا ہے اور اس کی سرحدات کا تعین کرنا ہے،یہ ہے وہ مطالبہ جس کا حصول ہمارا منتہا و مقصود ہے۔

(خطبۂ صدارت پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن۔یکم مارچ 1941ء)

پاکستان کا آغاز تو اسی دن ہو گیا تھا،جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم،اسلام قبول کر کے مسلمان ہوا تھا حالانکہ اس وقت ہنوز مسلمانوں کی کوئی حکومت یہاں قائم نہیں ہوئی تھی، جونہی کوئی ہندو،مسلمان ہوتا،ہندو اسے مذہباً ہی نہیں بلکہ معاشرتی،ثقافتی اور اقصادی حیثیت سے بھی اپنی برادری سے خارج کر دیتے(اور اس طرح اس کی پہلی قومیت ختم ہو جاتی)۔جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہےاسلام نے ان پر یہ پابندی عائد کر رکھی تھی کہ وہ کسی دوسری قومیت میں مدغم نہیں ہو سکتے(اس طرح یہاں دو قومیں وجود میں آتی چلی گئیں)۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہندو اور مسلمان ایک ہی قصبہ اور ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود کبھی ایک قوم میں مدغم نہیں ہو سکتے وہ ہمیشہ دو الگ الگ قوموں کی حیثیت سے رہتے چلے آرہے ہیں۔

(مسلم یونیورسٹی علی گڑھ۔8مارچ 1944ء)

ہندو اور مسلمان،خواہ وہ ایک قصبہ یا گاؤں میں کیوں نہ رہتے ہوں،کبھی ایک قوم کے اجزاء نہیں بن سکے،وہ ہمیشہ دو الگ الگ عناصر کی حیثیت سے رہے ہیں،پاکستان تو اس دن وجود میں آگیا تھا جب(ہندوستان میں) پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا،یہ اس زمانے کی بات ہے جب یہاں مسلمانوں کی حکومت بھی قائم نہیں ہوئی تھی۔

(مسلم یونیورسٹی علی گڑھ۔8مارچ 1944ء)

مسلم لیگ کی آئیڈیالوجی مسلم ہندوستان اور خود مختار قومیت کے بنیادی اصولوں پر استوار ہوتی ہے ہر اس کوشش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا جو ہماری قومیت،سیاسی تشخص یا ملی وجود کو ختم کرنے کے لئے بروئے کار لایا جائے گا،ایسی کوشش سعیٔ ناکام ثابت ہو گی،ہم یہ عزم صمیم لے کر اٹھے ہیں اور اس بارے میں کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہ رہنا چاہئے کہ اس برصغیر میں ایک آزاد قوم کا منصب حاصل کریں اور ایک خود مختار وجود اور ہماری دنیا ہی مختلف ہے زندگی میں ہمیں ان سے مربوط کرنے والی مملکت کا قیام عمل میں لائیں۔

(خطبۂ صدارت سالانہ اجلاس مدراس۔1944ء)

مسلمان پاکستان کا مطالبہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اس میں اپنے ضابطۂ حیات،ثقافتی نشونما،روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔

(فرنٹیئر مسلم لیگ کانفرنس پشاور۔21 نومبر 1945ء)

ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں،ہماراکلچر بھی ایک دوسرے سے الگ ہے،ہمارا دین ہمیں ایک ایسا ضابطۂ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری راہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطے کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔

(ایڈورڈ کالج پشاور۔27نومبر 1945ء)

میں نہیں سمجھتا کہ کوئی دیانت دارآدمی بھی اس حقیقت سےاختلاف کر سکتا ہے کہ مسلمان بجائے خویش،ہندوؤں سے یکسر الگ ایک قوم ہیں۔

(تقاریر و تحریراتِ جناحؒ جلد دوم)

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates