• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Quotes About Islam by Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah

Quotes About Islam by Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah

Posted in   Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah   on  June 24, 2021 by  admin

فرموداتِ قائداعظمؒ

اسلام

معاشی احیاء ہو یا سیاسی آزادی اسے آخر الامر زندگی کے کسی گہرے مفہوم پر مبنی ہونا چاہئے اور مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ ہمارے نزدیک زندگی کا وہ گہرا مفہوم اسلام اور روح اسلام ہے۔

(پیغام عید۔13 نومبر 1939)

یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہئے کہ مسلم لیگ کسی کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ وہ مسلمانوں میں اس قسم کے ہتھکنڈے بروئے کار لائے ٗ ہمارا اوڑھنا بچھونا صرف اسلام ہے ٗ  یہاں شیعہ اور سنی تک کا کوئی سوال نہیں ٗ ہم ایک ہیں اور ایک قوم کی طرح حرکت میں آئیں گے ٗ یہی وہ صورت ہے جو حصول پاکستان میں کامیابی سے ہمکنار کرے گی۔

(پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن۔8مارچ 1944ء)

اسلامی اصولوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔آج بھی یہ اصول زندگی میں اسی طرح قابلِ نفاذ ہیں جیسے کہ یہ تیرہ سوسال پہلے تھے۔

کوئی شبہ نہیں کہ بہت سے لوگ ہمارا مدعا پوری طرح نہیں سمجھتے ٗ  جب ہم اسلام کا ذکر کرتے ہیں تو اسلام محض چند عقیدوں ٗ روایتوں اور روحانی تصورات کا مجموعہ نہیں۔اسلام ہر مسلمان کے لئے ایک ضابطہ بھی ہے جو اسکی زندگی اور کردار کو سیاست اور معیشت تک کے معاملات میں انضباط دیتا ہے۔

ذات برادری کی تقسیم اور شیعہ سنی کی تفریق ہمیں ایک قوم نہیں بننے دے گی ٗ ان تفریقات کو ختم کر دیجئے۔یاد رکھیے! ہماری کشتی کا لنگر اور ہماری عمارت کی بنیاد اسلام ہے۔

(پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن۔مارچ 1944ء)

اگر کوئی چیز اچھی ہے تو عین اسلام ہے اگر کوئی چیز اچھی نہیں ہے تو اسلام نہیں ہے ٗ کیونکہ اسلام کا مطلب عین انصاف ہے۔

(میمن چیمبر آف کامرس ٗ بمبئی۔27مارچ 1947ء)

پاکستان کا قیام جس کے لئے ہم گذشتہ دس سال سے مسلسل کوشش کر رہے تھے اب خدا کے فضل سے ایک حقیقت ثابتہ بن کر سامنے آچکا ہے ٗ لیکن ہمارے لئے اس آزاد مملکت کا قیام مقصود بالذات نہیں تھا بلکہ ایک عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ہمارا مقصد یہ تھا کہ ہمیں ایک ایسی مملکت مل جائے جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں اور سانس لے سکیں اور جس  میں ہم اپنی روشنی اور ثقافت کے مطابق نشوونما پا سکیں اور جہاں اسلام کے عدلِ عمرانی کے اصول آزادانہ طور پر روبہ عمل لائے جا سکیں۔

(خالق دینا ھال کراچی میں خطاب۔11 اکتوبر 1947ء)

اپنے میں حوصلہ پیدا کیجئے ٗ موت سے خوف نہ کھائیے ہمارے مذہب نے یہی سکھایا ہے کہ ہمیشہ موت کے لئے تیار رہنا چاہئے ٗ پاکستان اور اسلام کی عزت بچانے کے لئے ہمیں موت کا مقابلہ بہادری سے کرنا چاہئے ٗ مسلمان کے لئے اس سے بہتر وسیلۂ نجات اور کوئی نہیں ہو سکتا کہ حق کی خاطر شہید کی موت مرے۔

(جلسہ عام لاہور-30 اکتوبر 1947ء)

ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔

(اسلامیہ کالج پشاور۔13 جنوری 1948ء)

اسلام ہماری زندگی اور ہمارے وجود کا بنیادی سر چشمہ ہے ٗ  اسلام نے ہمارے ثقافتی اور تہذیبی ماضی اور ہماری گذشتہ روایات کو عرب دنیا سے اتنا وابستہ ٗ  گہرا اور قریب کر رکھا ہےکہ اس امر میں تو کسی کو شبہ ہی نہیں ہونا چاہئے کہ ہم عربوں اور ان کے مسائل اور مقاصد سے مکمل ترین ہمدردی رکھتے ہیں۔

(شرقِ اردون کے سفیر کے استقبال پر۔24 دسمبر 1947ء)

اسلام اور اس کی عالی نظری نے جمہوریت سکھائی ہے ٌ اسلام نے مساوات سکھائی ہے ٗ  ہر شخص سے انصاف اور رواداری کا حکم دیا ہے ٌ  کسی بھی شخص کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ عوام الناس کے لئے انصاف اور رواداری پر اور دیانت داری کے اعلیٰ معیار پر مبنی جمہوریت ٌ  مساوات اور آزادی سے گھبرائے۔

(کراچی بار ایسوسی ایشن-25 جنوری 1948ء)

میں تو یہ سمجھ ہی نہیں سکا کہ لوگوں کو اس استفسار کی ضرورت کیوں پڑ رہی ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہو گا یا نہیں؟ اسلامی اصول تو ایسے ہیں جن کی نظیر دنیا میں کوئی پیش نہیں کر سکتا۔یہ اصول آج بھی اسی طرح کارآمد ہیں جس طرح آج سے تیرا سو سال پیشتر تھے۔

(سندھ بار ایسوسی ایشن-25 جنوری 1948ء)

مغرب کے معاشی نظام نے نوعِ انسانی کے لئے لاینحل مسائل پیدا کر دئیے ہیں ٌ  اس نظام کی رو سے ہم اپنا نصب العین یعنی عوام کی مرفہ الحالی اور اطمینان کبھی حاصل نہیں کر سکتے ٌ  لہذاہمیں اپنا راستہ آپ ترشنا چاہئے اور دنیا کے سامنے وہ نظام پیش کرنا چاہئے جو اسلام کے نوعِ انسانی کی مساوات اور عدل عمرانی کے تصور پر مبنی ہو۔

(آخری تقریر اسٹیٹ بینک۔یکم جولائی 1948ء)

پاکستان کا دستوار ابھی بننا ہے اور یہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی بنائے گی ٌ مجھے نہیں معلوم کہ اس دستور کی شکل و ہیئت کیا ہو گی؟لیکن میں اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہو گا اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل ۔ان اصولوں کا اطلاق آج کی عمل زندگی پر بھی اسی طرح ہو سکتا ہے جس طرح تیرا سو سال پہلے ہوا تھا۔اسلام اور اُس کے نظریات سے ہم نے جمہوریت کا سبق سیکھا ہے ٗ اسلام نے ہمیں انسانی مساوات ٗ انصاف اور ہر ایک سے رواداری کا درس دیا ہے ہم نے ان عظیم الشان روایات کے وارث اور امین ہیں ٗ اور پاکستان کے آئندہ دستور کے معمار اور بانی کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بخوبی آگاہ ہیں۔

(امریکی نامہ گار سے انٹریو۔فروری 1948ء)

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates