• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Wasif Ali Wasif Quotes in Urdu Text PDF Download

Wasif Ali Wasif Quotes in Urdu Text PDF Download

Posted in   Urdu Quotes   on  September 8, 2021 by  admin

آپ کا اصل ساتھی اور آپ کا صحیح تشخّص،آپ کے اندر کا اِنسان ہے۔اُسی نے عبادت کرنا ہے اور اسی نے بغاوت،وہی دُنیا والا بنتا ہے اور وہی آخرت والا۔اُسی اندر کے اِنسان نے آپ کو جزا و سزا کا مستحق بنانا ہے۔فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔آپ کا باطن ہی آپ کا بہترین دوست ہے اور وہی بدترین دُشمن ۔آپ خود ہی اپنے لئے دُشواریٔ سفر ہو اور خود ہی شادابیٔ منزل۔باطن محفوظ ہو گیا،تو ظاہر بھی محفوظ ہو گا۔

اِیمان ہمارے خیال کی اِصلاح کرتا ہے،شکوک و شُبہات کی نفی کرتا ہے،وسوسوں کو دل سے نکالتا ہے۔اِیمان ہمیں غم اور خوشی،دونوں میں اللہ کے قریب رکھتا ہے۔ہم ہر آزمائش میں پورے اُترتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ خوشیاں دینے والا،ہمیں غم کی دولت سے بھی نواز سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دولتِ یقین سے محروم نہیں ہونے دیتا۔

کسی اِنسان کے کم ظرف ہونے کے لئے اِتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی زبان سے اپنی تعریف کرنے پر مجبور ہو۔دُسروں سے اپنی تعریف سننا مستحسن نہیں اور اپنی زبان سے اپنی تعریف عذاب ہے۔

اسلام میں داخل ہونے کے بعد اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ وہ دُوسرے مسلمانوں پر فوقیت رکھتا ہے،تو اُسے غلط سمجھیں۔اپنی فضیلت کو فضیلت کے طور پر بیان کرنا ہی فضیلت کی نفی ہے،اِنسان کی کم ظرفی ہے،جہالت ہے۔اصل فضیلت تو دُوسروں کو فضیلت دینے میں ہے جیسا کہ علم میں دُوسروں کو شامل کرنے کا نام علم ہے۔ورنہ علم سے دُوسروں کو مرعوب کرنا احساسِ کمتری میں مبتلا کرنا تو جہالت ہے۔

عافیت اِس بات میں ہے نہیں کہ ہم معلوم کریں کہ کشتی میں سوراخ کون کر رہا ہے۔عافیت اِس بات میں ہےکہ کشتی کنارے لگے۔

اب کسی نبی نے دُنیا میں نہیں آنا۔لہذا دِین کی تبلیغ کی عظیم ذِمہّ داری ہم سب پر ہے۔اپنی اِصلاح کے بعد یہی اُمّت دُنیا کی اِصلاح کرے۔

جس نے لوگوں کو دِین کے نام پر دھوکا دیا،اُس کی عاقبت مخدوش ہے کیونکہ عاقبت دِین سے ہے اور دِین میں دھوکا نہیں۔اگر دھوکا ہے تو دِین نہیں۔

جو شخص اِس لئےاپنی اِصلاح کر رہا ہے کہ دُنیا اُس کی تعریف و عزت کرے،اُس کی اِصلاح نہیں ہو گی۔اپنی نیکیوں کا صِلہ دُنیا سے مانگنے والا اِنسان نیک نہیں ہو سکتا۔ریا کار اُس عابد کو کہتے ہیں جو دُنیا کو اپنی عبادت سے مرعوب کرنا چاہے۔

اِنسان کا اصل جوہر صداقت ہے،صداقت مصلحت اندیش نہیں ہو سکتی۔جہاں اِظہارِ صداقت کا وقت ہو،وہاں خاموش رہنا صداقت سے محروم کر دیتا ہے۔اُس انسان کو صادق نہیں کہا جا سکتا،جو اِظہارِ صداقت میں اِبہام کا سہارا لیتا ہو۔

دانا ،نادانوں کی اصلاح کرتا ہے،عالم،بے علم کی اور حکیم، بیماروں کی۔وہ حکیم علاج کیا کرے گا،جس کو مریض سے محبت ہی نہ ہو۔اسی طرح وہ مُصلح جو گنہگاروں سے نفرت کرتا ہے،اُن کی اِصلاح کیا کرے گا۔ہر صفت اپنی مخالفت پر اَثر کرنا چاہتی ہے،لیکن نفرت سے نہیں،محبت سے۔

اگر زِندگی بچانے کی قیمت پوری زندگی بھی مانگی جائے تو اِنکار نہ کرنا!!

باطن ایک علم ہے،جس کو عطا ہو جائے وہ اِسے باطن نہیں کہتا بلکہ ظاہری ہی کہتا ہے۔علم باطن سے ظاہر میں آتا رہتاہے۔اِسی طرح وہ غیب جس کا علم عطا ہو جائے،وہ غیب نہیں کہلاتا۔غیب وہ ہے جس کا علم بندے تک نہیں پہنچتا۔ یہ صرف اللہ کے پاس ہے۔ایسے غیب کا تذکرہ بھی نہیں ہو سکتا،اور اللہ کے لئے کچھ غیب نہیں۔

زِندگی اور عقیدے میں فاصلہ رکھنے والا انسان منافق ہوتا ہے۔ایسا شخص نہ گناہ چھوڑتا ہے،نہ عبادت۔اللہ اُس کی سماجی ضرورت ہوتا ہے ،دِینی نہیں۔ایسے آدمی کے لئے مایوسی اور کربِ مسلسل کا عذاب ہے۔

غیر یقینی حالات پر تقریریں کرنے والے،کتنے یقین سے اپنے مکانوں کی تعمیر میں مصروف ہیں!

ہم صرف زبان سے اللہ اللہ کہتے رہتےہیں۔اللہ لفظ نہیں ہے۔اللہ آواز نہیں۔اللہ پُکار نہیں،اللہ تو ذات ہے،مقدس و ماورا۔اُس ذات سے دِل کا تعلق ہے،زبان کا نہیں۔دِل اللہ سے متعلق ہو جائے تو ہمارا سارا وجود دِین کے سانچے میں ڈھل جانا لازمی ہے۔

میاں بیوی کو باغ و بہار کی طرح رہنا چاہیے۔وہ باغ ہی کیا ،جو بہار سے بیگانہ ہو ،اور وہ بہار ہی کیا،جو باغ سے نہ گزرے۔یہ اُس کے دَم سے،وہ اس کی وجہ سے!!

اگر اللہ تعالیٰ رحمت کے جوش میں مخلوق کو معاف فرما دے،تو کیا ہو گا؟موت کا منظر مرنے کے بعد ؟کیا اللہ معاف کرنے پر قادر نہیں؟

اِنسان حادث ہے اللہ قدیم۔حادث نے قدیم کے مقام و مزاج کی اِطلاح دُنیا کو دی،یا یوں کہیے کہ قدیم نے اپنے بارے میں دُنیا کو اطلاح حادث کے ذریعے دی۔۔۔۔حادث اور قدیم کس مقام پر ایک دوسرے کے متعلق جاننا شروع کرتے ہیں،اِس کا جاننا بہت مشکل ہے ،اور اِس کا جاننا ہی بہت اہم و ضروری ہے!

پُرانے بادشاہ ہاتھی کی سواری سے جلالِ شاہی کا اظہار کرتے تھے۔آج ہمارے بچے چڑیا گھروں میں ہاتھی کی سواری سے دِل بہلاتے ہیں۔

سچے اِنسان کے لئے یہ کائنات عین حقیقت ہے اور جھوٹے کے لیے یہی کائنات،حجاب ِحقیقت ہے۔

رِزق صرف یہی نہیں کہ جیب میں مال ہو،بلکہ آنکھوں کی بینائی بھی رِزق ہے۔دماغ میں خیال بھی رِزق ہے۔دِل کا اِحساس رزِق ہے۔رگوں میں خون رزق ہے،یہ زندگی ایک رِزق ہے،اور سب سے بڑھ کر ایمان بھی رزِق ہے۔

بندے اللہ کی طرف یا خوف کی وجہ سے رجوع کرتے ہیں یا شوق کی وجہ سے۔گردشِ روزگار میں خوف پیدا ہوتا ہی رہتا ہے اور لوگ اللہ کو مدد کے لئے پکارتے ہی رہتے ہیں۔شوق عنایتِ اَزلی ہے۔یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔اِسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کچھ لوگ اللہ کو اِس لئے تلاش کرتے ہیں کہ اللہ اُن کے بگڑے کام سنوارنے والا ہے،اور اہلِ دل حضرات اِس لئے اللہ کا تقّرب مانگتے ہیں کہ اُن کوقرار ملے،تسکین حاصل ہو،اِطمینان نصیب ہو۔خوف کی عبادت اورہے،اور سجدۂ شوق اور!

جو شخص سب کی بھلائی مانگتا ہے،اللہ اُس کا بھلا کرتا ہے۔جن لوگوں نے مہمانوں کے لئے لنگر خانے کھول دیے ہیں،کبھی محتاج نہیں ہوئے۔

توبہ جب منظور ہو جاتی ہے،تو یادِ گناہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔

جب عزت اور ذِلت اللہ کی طرف سے ہے،رنج و راحت اللہ کی طرف سے ہے،دولت اور غریبی اللہ کی طرف سے،زندگی اور موت اللہ کی طرف سے،تو ہمارے پاس تسلیم کے علاوہ کیا رہ جاتا ہے؟

ہماری آنکھوں کے سامنے عجائبات ہیں لیکن ہم دیکھتے نہیں۔ایک معمولی سی بے عقل،بے شعور گائے کتنا بڑا کرشمہ ہے،فطرت کا عجوبہ،گھاس سے دُودھ بنانے والا حیرت انگیز کارنامہ۔۔۔۔ہم کیوں نہیں دیکھتے!

اپنے حال پر افسوس کرنا،اپنے آپ پر ترس کھانا،اپنے آپ کو لوگوں میں قابلِ رحم ثابت کرنا،اللہ کی ناشکرگزاری ہے۔اللہ کسی اِنسان پر اُس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔بیمار اور لاغر رُوحیں ہمیشہ گلہ کرتی ہیں،صحت مند اَرواح، شکر۔زندگی پر تنقید،خالق پر تنقید ہے،اور یہ تنقید ایمان سے محروم کر دیتی ہے۔

ایک انسان نے دُوسرے سے پوچھا: “بھائی! آپ نے زندگی میں پہلا جھوٹ کب بولا؟ دُوسرے نے جواب دیا:” جس دن میں نے یہ اعلان کیا کہ میں ہمیشہ سچ بولتا ہوں”۔

اپنے علم کوعمل میں لانے کے لئے یقین کے ساتھ ساتھ ایک رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس دُنیا میں اِنسان نہ کچھ کھوتا ہے۔نہ پاتا ہے۔
وہ تو صرف آتا اور جاتا ہے۔

تکلیف آتی ہے:
ہمارے اعمال کی وجہ سے۔
ہماری وُسعتِ برداشت کے مطابق۔
اللہ کے حکم سے۔
ہر تکلیف ایک پہچان ہے اور یہ ایک بڑی تکلیف سے بچانے کے لئے آتی ہے۔

اِنکار،اِقرار کی ایک حالت ہے،اُس کا ایک درجہ ہے۔اِنکار کو اِقرار تک پہنچانا،صاحبِ فراست کا کام ہے۔اِسی طرح کفر کو اِسلام تک لانا، صاحبِ ایمان کی خواہش ہونا چاہیے۔

صحت کے لئے خوراک ضروری ہے،لیکن خوارک صحت نہیں۔

اسلام مسلمانوں کے علم کا نام نہیں ،اُن کے عمل کا نام ہے۔
یعنی اِسلام بولنے والی بات نہیں،کرنے والا کام ہے۔

لوگ تو ہماری خوشی میں شریک نہیں ہوتے،غم میں کون شریک ہو گا؟

گلاب کا نام خوشبو کے پروں پر سفر کرتا ہے۔گلاب،ذات ہے اور خوشبو صفت۔ذات اپنی صفات کے حوالے سے پہچانی جاتی ہے۔

جو انسان اللہ کی طرف جتنا عروج حاصل کرتا ہے،اتنا ہی اِنسانوں کی خِدمت کے لئے پھیلتا ہے۔عمودی سفر،اُفقی سفر کے متناسب ہوتا ہے۔صاحبِ معراجٗ رحمتہ الّلعالمین ﷺ ہیں۔

دِل افسردہ ہو تو آباد شہر قبرستان لگتے ہیں۔دِل خوش ہو،تو قبرستان میں جشن منائے جا سکتے ہیں۔زندگی خیال کا نام ہے۔خیال اور عقیدے کی اِصلاح ہی زندگی کی اِصلاح ہے۔

اُس اندھے کا کیا علاج ٗ جو قدم قدم پر ٹھوکر کھاتا ہےاور اپنے آپ کو اندھا ماننے کے لئے تیار نہیں۔

اِنسانوں کے وسیع سمندر میں ہر آدمی ایک جزیرے کی طرح تنہا ہے۔

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates