• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Iqbal Day Speech in Urdu | Topic Iqbal Ka Ishq e Rasool

Iqbal Day Speech in Urdu | Topic Iqbal Ka Ishq e Rasool

Posted in   Urdu Speeches   on  September 30, 2021 by  admin

اقبالؒ کا عشق رسولﷺ

صدر محترم اور حاضرین کرام!آج مجھے جس موضوع کو اپنے جذبات کے گلدستے میں سجانا ہے،وہ ہے۔

اقبالؒ کا عشق رسولﷺ

علامہ اقبالؒ وہ دانائے راز تھے جن کے وجود کے لئے بزم ہستی مدتوں محو دعا رہی ہے۔آپ نے ملت اسلامیہ کے تن مُردہ میں آزادیٔ حیات اور عزم و عمل کی نئی روح پھونک دی۔اقبالؒ وہ ترجمان خودی تھے جنہوں نے فطرت کے اسرار منکشف کئے۔قوم کے جوانوں کو شاہینی پرواز اور فرزندان توحید کو “مرد مومن” کا تصور دیا۔سکندرانہ جلال کا تصور رکھنے والوں کو قلندرانہ ادئیں سکھائیں۔

جناب صدر! آپ کی شاعری آفاقی اور ابدی ہے۔اس ابدیت کا سرچشمہ عشق مصطفیٰ ﷺ سے پھوٹتا ہے۔یہی عشق رسول تھا جو شاعر مشرق کی زندگی اور شاعری کا مرکز و محور تھا۔اسی عشق رسول ﷺ کی خوشبو ان کے قلم سے پھوٹتی اور عشاق حضور کے دلوں میں اس پیغام کے ساتھ گھر کر لیتی ہے۔

ترا جوہر ہے نوری،پاک ہے تو
فروغ دیدۂ افلاک ہے تو
تیرے صیدِ زبوں فرشتہ و حور
کہ شاہینِ شہِ لولاک ہے تو

صدر والا مرتبت! اقبال کا عشق رسولﷺ اسلامیان عالم کو شاہین شہ لولاک بننے کا پیغام دیتا ہے۔اس عظیم پیغام کے پس پردہ علامہ اقبالؒ کی علمی زندگی کی تب و تاب اور فکری تگ وتاز پوشیدہ ہے۔یہی عشق رسولﷺ ہے جو انہیں یورپ کے ظلمت کدوں میں بھی اپنی تب وتاب میں گم رکھتا ہے۔اسی وجہ سے وہ بڑےفخر کے ساتھ اعلان کرتے ہیں کہ

؎خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

محترم حاضرین!خاک مدینہ و نجف کو اپنی آنکھ کا سرمہ قرار دے کر اقبالؒ حضور نبی کریمﷺ کی ذات کو فکر و عمل کا محور قرار دیتے ہیں تو ان کے اندر ایک عظیم عاشق رسول مچلنے لگتا ہے۔ان کے شب و روز حضور کی محبت میں بسر ہوتے ہیں۔وہ محبوب دو عالم کی یاد میں تڑپتے اور پروانے کی طرح جلتے ہیں،مگر مدینہ کے سفر کا عزم کرتے ہیں تو قدم ڈگمگا جاتے ہیں کہ کس منہ سے شفیع عاصیاں کے حضور جاؤں گا۔روز قیامت کے تصور سے ،اعمال کے محاسبہ کا خوف نہیں ستاتا بلکہ یہ خیال مارے ڈالتا ہے کہ حضورﷺ میرے نامۂ اعمال کو دیکھ کر کیا خیال فرمائیں گے۔اسی لئے خدا کے حضور اپنی عرضداشت پیش کرتے ہوئے سسک اٹھتے ہیں کہ

؎ مکن رسوا حضور خواجہ مارا
حساب من زچشم اونہاں گیر

جناب والا! اقبال کا عشق رسولﷺ محض لفظی نہیں بلکہ عملی ہے۔وہ پوری ملت اسلامیہ کو اسوۂ حضور ﷺ کے سانچے میں ڈھلا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے نزدیک”اطیعو الرسول” ہی عشق کی معراج ہے۔اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں۔

حضور نبی اکرم ﷺ سے انسانیت اپنی معراج کبریٰ کو پہنچ گئی۔اب ہر انسان کے سامنے معراج انسانیت کا نمونہ محمد ﷺ موجود ہیں۔جتنا کوئی محمدیت کے رنگ میں رنگا جائے گا۔اتنا ہی قرآن اس پر نازل ہوتا جائے گا۔

؎ خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

صدرذی وقار! اقبال کی شاعری اور عشق رسول لازم و ملزم نظر آتے ہیں۔عشق حضورﷺ میسر ہو تو ذروں کو آفتاب کی چمک ،قطروں کو سمندر کی وسعت اور بندے کو سلطان مدینہ کی نسبت عطا ہوتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ پنجاب کی خاک سے ابھرنے والا اقبال عصر حاضر میں کاروان عشق و سرمستی کا سب سے بڑا حدی خواں بن گیا۔اس کی آنکھیں مدینہ کے تصور سے ضو بار تھیں تو دل محبت خدا سے سرشار تھا۔اسم محمد ﷺ کی جاذبیت نے اس کے افکار کو منور کر رکھا تھا ۔یہی عشق رسولﷺ تھا جس نے اس کی فکر کی وسعتوں سے اسلامی ریاست کا تصور ابھارا اور وہ مسلمان کو محبت رسولﷺ کی نسبت کا واسطہ دے کر پکار اٹھا کہ

؎ بازو تیرا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام تیرا دیس ہے،تو مصطفوی ہے

حاضرین محترم! اقبالؒ حضور ﷺ کی محبت ایمان ہی نہیں بلکہ جان و ایمان قرار دیتا ہے۔وہ امت اسلام کو احساس دلاتا ہے کہ دین و دنیا کی ہر سرخروئی محبت رسول سے وابستہ ہے۔عشق حضور میسر ہو تو لوح و قلم مومن کی میراث بن جاتے ہیں۔اقبالؒ کے نزدیک اسم محمدﷺ سے وفاداری بلند ترین منصب ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اگر دل میں محبت رسولﷺ کی جگمگاہٹ نہ ہو تو پھر “بولہبی” کے اشرار ایمان کے انوار چھین لیتے ہیں۔اس لئے وہ پیغام دیتا ہے۔

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باونہ ریسدی تمام بولہبی ست

جناب والا! اقبالؒ بوستان عشق رسولﷺ کا وہ گل سدا بہار ہے جس کی لازوال مہک سے بزم ہستی ہمیشہ معنبر ہوتی رہے گی۔وہ اگر ترجمان خودی و بے خودی تھا تو عشق مصطفیٰ کے اسرار میں گم تھا۔شاعر مشرق اور حکیم الامت تھا تو اس کا ماخذ وہ عشق رسولﷺ تھا جو شرار بولہبی سے ٹکڑاتا اور صدق خلیل و صدیق کو مومن جانباز کی میراث بناتا ہے۔اسی عشق رسالتمآب نے اسے وقت کی حدود اور زمانےکی قیود سے بلند کر کے آفاقیت کا نقیب بنا دیا ۔یہی آفاقیت بارگاہ سلطان دو عالم ﷺ میں۔یوں ارمغان عقیدت پیش کر رہی ہے۔

لوح بھی تو قلم بھی تو،تیرا وجود الکتاب
گنبد آبگینہ رنگ،تیرے محیط میں حباب
شوکت سنجر و سلیم،تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و بایزید،تیرا جمال نے نقاب
شوق تیرا اگر نہ ہو ،میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب،میرا سجود بھی حجاب

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates