• Home
  • /
  • Blog
  • /
  • Speech on Kashmir Issue in Urdu Written PDF Download

Speech on Kashmir Issue in Urdu Written PDF Download

Posted in   Urdu Speeches   on  March 16, 2022 by  admin

موضوع:  مسئلہ کشمیر عالمی ضمیر کی آزمائش ہے

صدر ذی احتشام اور حاضرین کرام!

آزادی ہر فرد اور قوم کا پیدائشی حق ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں آزادی کو ودیعت کر دیا ہے۔یہ غلامی کے طوق و سلاسل میں محبوس نہیں رہ سکتا۔یہ انسان سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنے والا مریخ پر کمندیں ڈالنے والا ہے۔مہر و ماہ کی گزر گاہوں پر سفر کرنے کی صلاحتیوں کا حامل ہے اور ان ودیعتوں کے عملی اظہار کے لئے ایک آزاد اور پرسکون ماحول درکار ہے۔اس لئے کسی انسان کو یہ حق حاصل نہین کہ وہ دوسرے انسانوں کو جبرو استبداد کی زنجیروں میں جکڑ ڈالے۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں، بحر بے کراں ہے زندگی

حضرات گرامی!

مسلمانان برصغیر پر نوے سال تک انگریزوں نے غلامی کی سیاہ رات کے سائے زبردستی منڈلائے رکھے۔آخر کار ایک دانائے راز کے نغمہ ہائے خواب شکن اور بیدار قیادت نے قفس کی تمام تیلیاں ایک ایک کر کے توڑ ڈالیں اور غلامی کی زنجیروں کو توڑ کررکھ دیا۔اسیری کی سیاہ رات سے خورشید ستگاری طلوع ہوا۔لیکن ایک بدنصیب خطہ ایسا بھی تھا جو آفتاب آزادی کی روشن اور تابندہ کرنوں سے محروم رہا وہ خطہ جسے اہل نظر بہشت برروئے زمین است اور ایران صغیر کہا کرتے تھے۔اس خطہ کشمیر کی آزادی میں روڑے اس لئے اٹکائے گئے کہ پاکستان کے سرسبز و شاداب میدانوں کی شہ رگ کی حثییت رکھتا ہے۔ااس کے فلک بوس کہسار اوراس کی برفیلی وادیاں اپنی آغوش میں پورے موسم میں محض اس لئے اندوختہ جمع کرتی رہتی ہیں کہ پنجاب و سندھ کے جھلستے میدانوں کی پیاس بجھا سکیں بھلامکار حیلہ ساز اور کینہ پروردشمن یہ کب برداشت کر سکتا ہے کہ ہر خطہ پاک کو ہریالی اور شادابی نصیب ہو۔

دشمن کے دست ظلم سے شمشیر چھین لیں
آؤ کہ بڑھ کر وادی کشمیر چھین لیں

صدر ذی احترام!

اقوام عالم کے نقشے پر ایک نظر دوڈائیے تو بہت سی قوموں پر جنگ اور غلامی کی افتاد پڑی اور وہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کے لئے سینہ سپر ہوئے اقوام عالم نے ان کا ساتھ دیا اور آخر کام انہیں جبر و استبد اور غلامی سے نجات مل گئی۔ویت نام،کمبوڈیا وغیرہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔افغانستان کا مسئلہ بھی اپنے منطقی نتیجے پر پہنچ چکاہے لیکن سوال یہ ہے کہ کشمیر جنت نظیر کی سر زمین نے کون سا جرم کیا ہے کہ اس کا باسی تک پابند سلاسل ہے۔اس کی چیخ و پکار اور آہ وبکا،ضمیر انسانیت سے کیوں معذور ہے۔وہ عالمی ضمیر جو کتوں کی تڑپتی کیفیت دیکھ کر تڑپ تڑپ جاتا ہے۔اسے انسانوں کے معصوم بچوں کے حلقوم کٹتے دیکھ کر کیوں دکھ نہیں ہوتا۔دنیا میں امن و امان کے ٹھیکیداروں نے چند بے مقصد اور بے جان قرار دادوں کے سوا کیا کیا ہے؟

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

ہم ضمیر عالم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کویت پر عراقی حملے سے فوراً ہمدردی کا مروڑ تمہارے پیٹ میں کیسے پیدا ہوا۔فلسطین و کشمیر میں رہنے والوں کا خون کویتیوں کے خون سے کم سرخ ہے؟اے دنیا کی سپرپاور! دراصل نہ تمہیں عراق سے دشمنی ہے ،نہ کویت سے ہمدردی،نہ حجاز مقدس سے پیار ہے،نہ افغانیوں سے الفت و محبت بلکہ تم صرف حرص و آز کے بندے ہو۔جہاں تمہیں اپنا مفاد نظر آتا ہے وہاں تعاون،ہمدردی اور امداد جیسے الفاظ استعمال کر کے آگے بڑھتے ہو۔مکر وفریب کے دوہرے خول چڑھا کر اس دنیا کو بے وقوف بناتے ہو لیکن سنو!اب کشمیر جاگ اٹھا ہے۔اب کے اس نے اس انداز سے کروٹ لی ہے کہ ہندو بینئے کو دھوتی سنبھالتے بنے گی۔

اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں،تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

حضرات محترم!

اب آخر میں اپنے گریباں میں منہ ڈالتے ہیں۔ہم نے بھی مسئلہ کشمیر اور اپنی شہ رگ کے کٹنے کا احساس نہیں کیا۔اس مسئلہ کو مفادات کی بھینٹ چڑھایا،مصلحتوں کے خول چڑھائے،بڑے بڑے شملوں کے معاہدوں کی تہوں میں چھپایا۔دنیا کے ضمیر کو کیا پڑی کہ مدعی سست اور گواہ چست ہو جائے۔جب تک بچہ نہ روئے اس وقت تک تو اس کی حقیقی ماں کے سینے میں دودھ کے دھارے بھی جوش نہیں مارتے تو دنیا ہمارے مسئلے کے لئے بیدار کیوں ہو،اگر ضمیر عالم کو بیدار کرنا ہے،اگر کشمیر جنت نظیر کو آزاد کرانا ہے،اگر اس کے مجاہدوں کو آزاد فضاؤں کی مہکتی سانسیں مہیا کرنی ہیں تو مصلحتوں اور مفادات کے خول سے نکل کر شعلہ جوالہ بن کر میدان میں کود پڑو،کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے تو ایک بازو کٹوا چکے ہیں اب کوئی شہ رگ بھی نہ کاٹ کر لے جائے۔

میری مانو چلو منجد ھار میں موجوں سے ٹکرائیں
وگرنہ دیکھنا ساحل پہ سارے ڈوب جائیں گے

I've been in the business of writing, marketing, and web development for a while now. I have experience in SEO and content generation. If you need someone who can bring life to your words and web pages, I'm your guy.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked

{"email":"Email address invalid","url":"Website address invalid","required":"Required field missing"}
Subscribe to get the latest updates